تازہ ترین حملوں کے بعد امریکہ اور ایران ایک بار پھر کارروائیاں روکنے پر متفق: رپورٹ

ایک امریکی عہدے دار کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ ایک دوسرے پر حالیہ حملوں کے بعد خلیجِ فارس میں کارروائیاں روکنے پر دوبارہ آمادہ ہو گئے ہیں اور معاملے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکی عہدے دار نے کہا کہ 'طے شدہ مفاہمتی یادداشت کے تمام نکات پر تیکنیکی مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں فریقین میں اتفاق ہو گیا ہے کہ وہ پیچھے ہٹیں گے اور آبنائے ہرمز سے جہازوں کو آزادانہ گزرنے دیں گے۔'
امریکی نیوز ویب سائٹ 'ایگزیوس' نے بھی رپورٹ کیا ہے کہ دونوں فریقین نے ایک دوسرے پر حملے روک دیے ہیں۔ ایگزیوس نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے کہا ہے کہ مذاکرات منگل سے قطر میں دوبارہ شروع ہو جائیں گے۔
واضح رہے کہ گزشتہ چار روز کے دوران امریکہ اور ایران کی جھڑپیں ایک بار پھر شدت اختیار کرتی جا رہی تھیں۔ یہ حملے جمعرات سے شروع ہوئے تھے جب امریکہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کارگو جہازوں کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکہ اور ایران دونوں نے ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے تھے۔
امریکہ کی جانب سے ایران میں حملوں کے بعد تہران نے بھی جوابی کارروائیاں کیں۔
اتوار کو کیے گئے حالیہ حملوں میں ایران نے میزائلوں و ڈرونز کے ذریعے کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ نے پاکستانی کی ثالثی میں 17 جون کو ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے جس سے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔