امریکی عوام میں ٹرمپ کی حمایت میں کمی، ہر چار میں سے صرف ایک امریکی کا ماننا ہے کہ ایران جنگ سے فائدہ ہوا: سروے نتائج

ایک حالیہ سروے کے نتائج میں یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ امریکیوں کی اکثریت کا یہ ماننا ہے کہ ایران جنگ سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ اب معاہدے سے الٹا ایران کو فائدہ پہنچا ہے۔
یہ نتائج خبر رساں ادارے 'رائٹرز' اور سروے ایجنسی 'اپسوس' کے ایک مشترکہ سروے میں سامنے آئے ہیں جس میں ٹرمپ کی حمایت میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ ٹرمپ کی اپروول ریٹنگ گر کر 34 فیصد پر آ گئی ہے جو کہ ان کی دوسری مدت صدارت کی کم ترین سطح ہے۔
سروے کے مطابق ہر چار میں سے صرف ایک امریکی یہ سمجھتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جو جنگ شروع کی، اس کا امریکہ کو فائدہ ہوا۔ صرف 23 فیصد امریکیوں نے یہ رائے دی کہ امریکہ ایران کے مقابلے میں اب ایک مضبوط پوزیشن میں ہے جب کہ 35 فیصد رائے دہندگان کا ماننا تھا کہ واشنگٹن کی پوزیشن کمزور ہوئی ہے۔
سروے کے مطابق صرف 24 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ اس کی لاگت کے مقابلے میں فائدہ مند تھی۔ سروے میں شامل نصف افراد نے کہا کہ یہ تنازع اس کی قیمت کے قابل نہیں تھا۔
امریکیوں کی بھاری اکثریت یعنی 63 فیصد نے یہ خیال ظاہر کیا کہ انہیں نہیں لگتا کہ حالیہ معاہدے سے دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار امن قائم ہو پائے گا۔ صرف 18 فیصد امریکیوں نے امید ظاہر کی کہ امن برقرار رہے گا۔
ٹرمپ کی پالیسیوں پر عدم اطمینان اور ان کی اپنی حمایت میں کمی کے یہ حقائق ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب امریکہ میں رواں سال نومبر میں مڈٹرم انتخابات ہونا ہیں۔ کئی سیاسی مبصرین یہ امکان ظاہر کر رہے ہیں کہ ان انتخابات میں ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کو اپنی غیر مقبول پالیسیوں کی وجہ سے بھاری سیاسی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ٹرمپ نے جب دوسری مدت صدارت کا آغاز کیا تھا تو امریکیوں میں ان کی حمایت کی شرح یعنی 'اپروول ریٹنگ' 47 فیصد تھی جو اب گرتے گرتے 34 فیصد پر آ گئی ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔