امریکی سینیٹ میں ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور، ٹرمپ کے لیے یہ کتنا بڑا سیاسی دھچکا ہے؟

10:35, 24/06/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 10:35, 24/06/2026, بدھ
امریکی سینیٹ میں ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور، ٹرمپ کے لیے یہ کتنا بڑا سیاسی دھچکا ہے؟
فائل فوٹو

امریکی سینیٹ نے منگل کے روز ایک ایسی قانون سازی کی حمایت کی ہے جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سینیٹ نے 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے وار پاورز قرارداد کے حق میں فیصلہ دیا۔

یہ قرارداد اس ماہ کے آغاز میں امریکی ایوانِ نمائندگان سے بھی منظور ہو چکی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے نفاذ کے بعد امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں نے کسی صدر کو امریکی افواج کو جنگی کارروائیوں سے واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کی ہو۔

اگرچہ اس قرارداد کا اثر غالباً زیادہ تر علامتی ہی رہے گا تاہم یہ ٹرمپ کے لیے ایک دھچکا ہے۔ انہیں اب تک کانگریس میں ریپبلکن ارکان کی تقریباً متفقہ حمایت حاصل تھی جو اب کمزور ہوتی نظر آئی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب توقع کی جا رہی ہے کہ انتظامیہ جنگی اخراجات پورے کرنے کے لیے کانگریس سے دسیوں ارب ڈالر کی منظوری طلب کرے گی۔

ریپبلکن جماعت کو سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔ تاہم نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل چند ریپبلکن ارکان بعض معاملات پر صدر سے اختلاف کر چکے ہیں۔ اب مڈٹرم الیکشن میں یہ بھی طے ہوگا کہ آیا ریپبلکن جماعت کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔

سینیٹ میں ووٹنگ زیادہ تر جماعتی بنیادوں پر ہوئی۔ چار ریپبلکن سینیٹرز نے بھی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ دو ریپبلکن سینیٹرز ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے۔

منگل کی رات ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں ٹرمپ نے اس ووٹنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'غلط وقت پر اور بے معنی' قرار دیا۔ انہوں نے قرارداد کے حامیوں پر الزام لگایا کہ وہ ایران کو 'حوصلہ' دے رہے ہیں اور ان کا کام مزید مشکل بنا رہے ہیں۔

غیر یقینی صورتحال

ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے مذاکرات کر رہی ہے۔ کانگریس میں اس قرارداد کی حمایت صدر پر دباؤ بڑھا سکتی ہے کہ وہ دوبارہ فوجی کارروائی شروع نہ کریں۔ حالاں کہ ٹرمپ اشارہ دے چکے ہیں کہ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں وہ ایسا کر سکتے ہیں۔

1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ سے منظور ہونے والی ایسی مشترکہ قرارداد صدر کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس نہیں بھیجی جاتی۔ اس قانون میں کانگریس نے ایسی قراردادوں کو فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے طریقہ کار کے طور پر تصور کیا تھا۔

تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ اب بھی غیر واضح ہے۔ اس سے قبل کبھی کوئی وار پاورز قرارداد کانگریس کے دونوں ایوانوں سے منظور نہیں ہوئی تھی جب کہ 1983 میں امریکی سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ کسی بھی ایسے اقدام کو قانونی حیثیت حاصل کرنے کے لیے صدر کے دستخط یا ویٹو کے لیے پیش کیا جانا ضروری ہے۔

وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ وار پاورز ایکٹ آئین کے مطابق نہیں ہے۔ اس لیے اس کی پابندی لازم نہیں۔

منگل کو وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے کہا کہ سینیٹ کی ووٹنگ کی کوئی قانونی اہمیت نہیں کیونکہ ایسی قراردادیں صدر کے پاس نہیں جاتیں اور قانون کی قوت نہیں رکھتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ قرارداد صرف اس لیے منظور ہوئی کیوں کہ دو ریپبلکن سینیٹرز غیر حاضر تھے۔

عہدے دار نے مزید کہا کہ قرارداد صدر کو جنگی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دیتی ہے جب کہ وائٹ ہاؤس کے مطابق 7 اپریل کی جنگ بندی کے ساتھ یہ کارروائیاں پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ وار پاورز ایکٹ کی آئینی حیثیت کا حتمی فیصلہ غالباً عدالتوں میں ہوگا۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والے رکنِ کانگریس گریگوری میکس، جنہوں نے ایوانِ نمائندگان میں یہ قرارداد پیش کی تھی، نے کہا کہ وہ اسے قانونی طور پر پابند سمجھتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تمام قانونی راستے اختیار کریں گے کہ انتظامیہ اس پر عمل کرے۔


تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026