اسرائیل کا لبنان میں حزب اللہ کی سرنگ تباہ کرنے کا دعویٰ، 'حملے سے قبل امریکہ کو بتا دیا تھا'

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے لبنان میں حزب اللہ کے زیرِ زمین انفراسٹرکچر پر حملے کر کے اسے تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم اور وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں یہ دعویٰ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب ایران اور امریکہ ایک دوسرے سے حالیہ جھڑپوں کے بعد دوبارہ حملے روکنے پر متفق ہوئے ہیں۔
اسرائیل کے مطابق اس نے اتوار کو لبنان کے جنوبی علاقے میں واقع ایک گاؤں میں اس زیرِ زمین انفراسٹرکچر کو تباہ کیا۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ 200 میٹر طویل ایک سرنگ کو تباہ کیا گیا جب کہ حملے سے قبل امریکہ کو بھی اس کارروائی کے بارے میں بتا دیا گیا تھا۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ سرنگ سینکڑوں ہتھیاروں اور لانچرز سے بھری ہوئی تھی۔

اس حملے سے دو روز قبل ہی لبنان اور اسرائیل نے حملے روکنے کے لیے امریکہ کی ثالثی میں ایک سیکیورٹی انتظام پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت اسرائیل کو جنوبی لبنان کے بعض علاقوں سے اپنی فوج کو مرحلہ وار نکالنا ہے جن کی جگہ لبنان کی فوج کو تعینات کیا جائے گا۔ تاہم اسرائیلی فوج فی الحال لبنان میں قرار دیے گئے سیکیورٹی زون میں موجود رہے گی۔
حزب اللہ نے پیر کی صبح جاری اپنے بیان میں اسرائیلی حملوں کو جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ صورتِ حال اور ان تمام خلاف ورزیوں کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور 'اپنی سرزمین و عوام کے تحفظ' کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اسرائیل اور لبنان کی حکومت کے درمیان طے پانے والے سیکیورٹی انتظام کو مسترد کرتے ہوئے اسے اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنظیم مسلح جدوجہد جاری رکھے گی۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اتوار کی رات جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی فوج جنوبی لبنان کے سیکیورٹی زون میں موجود رہے گی اور 'دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے، شمالی آبادیوں میں خطرات کے خاتمے اور اسرائیلی شہریوں کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی۔'
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔