پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملوں میں 25 دہشت گرد ہلاک کرنے کا دعویٰ، خواتین و بچوں سمیت 36 عام شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے: افغان طالبان کا الزام

پاکستان نے افغانستان کے کئی صوبوں میں فضائی حملے کیے ہیں جن میں متعدد دہشت گردوں کی ہلاکت اور ہتھیاروں کا ذخیرہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تاہم افغان حکام کا الزام ہے کہ پاکستان کے حملوں میں درجنوں عام شہری ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب افغان صوبوں پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں جماعت الاحرار اور تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشت گردی کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق ان حملوں میں 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے جب کہ اسلحہ و بارود کے ذخیرے اور شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو بھی تباہ کر دیا گیا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان میں ہونے والے متعدد حالیہ حملوں کے بعد کی گئی ہیں۔ ان کے بقول خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ میں دہشت گردوں نے بے گناہ لوگوں اور پاکستان رینجرز کے کیمپ پر حملے کیے جس کے بعد سیکیورٹی فورسز کی جانب سے پاک - افغان سرحدی علاقوں میں انٹیلی جینس کی بنیاد پر زمینی آپریشن اور فضائی حملے کیے گئے۔

وزیر اطلاعات کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے 28 جون کو پاک افغان سرحدی علاقے باجوڑ میں انٹیلی جینس کی بنیاد پر آپریشن کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے ایک کمانڈر اور تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا جب کہ کئی شدت پسند زخمی بھی ہوئے ہیں۔
اسی آپریشن کو جاری رکھتے ہوئے قابل اعتماد انٹیلی جینس معلومات کی بیان پر پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں تین اہداف کو انتہائی کامیابی سے نشانہ بنایا گیا جن میں 25 دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں۔ یوں مجموعی طور پر 29 دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
افغان طالبان کی حملوں کی مذمت؛ عام شہریوں کی ہلاکتوں کا دعویٰ
افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان حکام نے پاکستان کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ کم از کم 36 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان نے اس کارروائی کو ’بزدلانہ‘ اور ’سفاکانہ‘ قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان نے فضائی حملوں میں سویلین علاقوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 36 افراد ہلاک جب کہ 163 زخمی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کا دعویٰ ہے کہ ہلاک اور زخمی ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے 'ایکس' اکاؤنٹ پر چند زخمی بچوں کی تصاویر بھی شیئر کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 'ہم جارحیت کے اس بزدلانہ فعل کی پرزور مذمت کرتے ہیں اور اسے جرم اور سفاکانہ فعل سمجھتے ہیں۔'
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تقریباً ایک سال سے وقفے وقفے سے سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں اب تک دونوں ممالک کے حکام کے مطابق درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔
پاکستان افغان طالبان کی حکومت پر شدت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتا ہے جب کہ کابل اس الزام کی تردید کرتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں پاکستان نے متعدد مرتبہ سرحدی علاقوں میں فضائی حملے کر کے تحریک طالبان پاکستان سے منسلک ٹھکانوں کو نشانہ بنانے اور شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے دعوے کیے ہیں۔ تاہم افغان طالبان ہمیشہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ان حملوں میں مارے جانے والے افراد عام شہری ہوتے ہیں۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔