غزہ میں 17 لاکھ بے گھر فلسطینی شدید مشکلات اور غیر انسانی حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں تقریباً 17 لاکھ بے گھر فلسطینی شدید مشکلات میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں پانی، رہائش اور بنیادی سہولتوں کی شدید قلت ہے۔
یہ تعداد غزہ کی کل آبادی کا لگ بھگ 80 فیصد بنتی ہیں۔ یہ 17 لاکھ بے گھر فلسطینی تقریباً 1,600 عارضی رہائشی مقامات پر انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہنے پر مجبور ہیں۔

اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ ہم ایک بار پھر اس پر زور دیتے ہیں کہ بچوں سمیت تمام شہریوں کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیئے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ پناہ گاہوں کی ایک حالیہ جائزہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ کم از کم 59 ہزار انفرادی پناہ گاہوں میں ہر ایک خیمے میں آٹھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ جب کہ تقریباً 38,500 افراد کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

تقریباً 80 فیصد پناہ گاہوں پر چوہوں کی بھرمار ریکارڈ کی گئی جب کہ نصف سے زائد مقامات پر کھلے سیوریج اور کچرے کے ڈھیر پائے گئے۔
غزہ کے محکمۂ صحت کے مطابق 10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں کم از کم 1,027 افراد ہلاک اور 3,280 زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ جنگ بندی اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی دو سالہ جنگ کے بعد عمل میں آئی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 70 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔