کولمبیا میں صدر کے زلزلہ متاثرین کو ’پانی، خوراک اور ادویات کے بجائے فٹبال‘ دینے پر تنقید
15:28, 17/08/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 17:02, 17/08/2026, پیر

زلزلہ متاثرین میں فٹ بال تقسیم کرنے پر کولمبیا کے صدر پر تنقید
’بچے بھوک سے مر رہے ہیں ، حکومت فٹ بال تقسیم کر رہی ہے، جب کہ صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے‘، یہ الفاظ زلزلہ متاثرین کے ہیں جہاں کولمبیا کے صدر زلزلے سے متاثرہ علاقے میں فٹ بال تقسیم کرنے گئے اور وہاں موجود لوگوں نے ان پر تنقید کی جبکہ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو مختلف تبصرے سامنے آئے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی وڈیو اور تصاویر میں صدر ابیلارڈو دے لا ایسپریئیا کو اپنی بکتر بند گاڑی سے متاثرہ علاقے قیبدو کے لوگوں کی طرف فٹ بال پھینکتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ زلزلہ متاثرین میں تقسیم کی گئی فٹبال پر ایک تحریر بھی موجود ہے جس کا مطلب ’وطن کے ساتھ ثابت قدم‘ ہے۔
کولمبیا کا علاقہ قیبدو زلزلے سے سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں سے ایک ہے۔ جب پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بنا ہوا ہے اور لوگ زندہ رہنے کے لیے امداد کی اپیل کر رہے ہیں ایسے وقت میں صدر کے اس اقدام کو انتہائی غیر حساس قرار دے رہے ہیں۔
کولمبیا کے سابق صدر گستاو پیٹرو کی طرف سے ایک ویڈیو شیئر کی گئی ہے جس میں ایک مقامی شخص کہہ رہا ہے کہ ’بچے بھوک سے مر رہے ہیں ، حکومت فٹ بال تقسیم کر رہی ہے، جب کہ صحت کا نظام تباہ ہو چکا ہے اور 26 سکول منہدم ہو چکے ہیں۔‘

زلزلہ متاثرین میں فٹ بال تقسیم کرنے کی وڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مخلتف تبصرے کیے گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر صارف عمر نے تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کولمبیا میں زلزلہ آیا ہے، مگر ملک کے صدر نے خوراک اور پانی پہنچانے کے بجائے اپنی پارٹی کے نام والی فٹ بال اور جرسیاں تقسیم کیں ہیں۔‘
انہوں نے مزید لیکھا کہ ’لوگ فٹ بال کی جرسیاں کھا نہیں سکتے۔ ایبلارڈو ملک کے لیے شرمندگی اور خطرے کا باعث ہے۔‘

ایک اور سوشل میڈیا اکاؤنٹ ایم ای پر لکھا گیا کہ ’کولمبیا میں زلزلے سے متاثرہ ایک کمیونٹی کو امید تھی کہ نئے صدر انہیں پانی، خوراک اور ادویات جیسی انتہائی ضروری امداد فراہم کریں گے، لیکن اس کے برعکس انہیں فٹ بال دے دیے گئے ہیں۔

ایک اور سوشل میڈیا ہینڈل پر کہا گیا ہے کہ ’ایک تباہ کن زلزلہ آیا ہے اور کولمبیا کے نئے صدر نے کسی نئے ڈرائیونگ لائسنس یافتہ ڈرائیور کی طرح فٹ بال تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ان ممالک کی امداد لینے سے انکار کر کے امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالی ہے جنہیں وہ پسند نہیں کرتے۔‘

ایکس پر جیف کولے نامی اکاؤنٹ پر لکھا گیا ہے کہ ’قبیدومیں، 7.4 شدت کے اس زلزلے کے چھ دن بعد بھی جب سینکڑوں افراد ہلاک ہو ئے ہیں اور مقامی لوگ بنیادی امداد (خوراک، طبی سہولیات، پناہ گاہ) کے منتظر ہیں، ایک بکتر بند گاڑی سے مخصوص برانڈ کے فٹ بال تقسیم کرنا انتہائی غیر حساس اور نامناسب طرزِ عمل کا مظاہرہ ہے۔‘
’جب لوگ ابھی تک ملبے تلے اپنوں کو تلاش کر رہے ہوں، تو ایسے علامتی اقدامات کا تاثر بہت برا پڑتا ہے۔‘
یاد رہے کہ کولمبیا میں 7.4 شدت کے زلزلے سے اموات کی تعداد تقریباً 294 ہو گئی تھی۔ جبکہ اس زلزلے کے نتیجے میں 3,935 افراد زخمی، 320 لاپتہ ہیں۔
شنہوا نے نیشنل یونٹ فار ڈیزاسٹر رسک مینجمنٹ کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ زلزلے سے 15 محکموں کی 448 میونسپلٹیز میں 54,008 خاندان، یعنی 115,461 افراد متاثر ہوئے ہیں۔