امریکہ اور ایران کے وفود کی قطر آمد متوقع لیکن مذاکرات پر غیر یقینی برقرار

ِامریکہ اور ایران کے مذاکراتی وفود کی اس ہفتے دوحہ میں ملاقات متوقع تھی جو اب غیر یقینی صورت حال کا شکار ہو گئی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ فی الحال کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اپنی مذاکراتی ٹیم کی قیادت کے لیے اپنے داماد جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کو دوحہ بھیج رہے ہیں۔
ایران بھی اپنا تکنیکی وفد قطر بھیج رہا ہے تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ اس کا 'امریکیوں کے دورے سے کوئی تعلق نہیں' اور دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہوئے۔
اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ 'آنے والے دنوں میں امریکی فریق کے ساتھ کسی بھی سطح پر کوئی مذاکراتی اجلاس نہیں ہوگا۔'
گزشتہ ہفتے دونوں ملکوں کے درمیان ایک بار پھر ہونے والی جھڑپوں کے بعد معاہدے کی نازک حیثیت ایک بار پھر عیاں ہوئی ہے۔
امریکہ اور ایران نے 17 جون کو پاکستان کی ثالثی میں ایک ابتدائی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس مفاہمتی یادداشت میں جنگ بندی میں توسیع، ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت اور مستقل امن معاہدے کے لیے 14 نکاتی یادداشت پر عمل درآمد کے لیے کم از کم 60 دن کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔
تاہم فی الحال اس معاہدے پر پیش رفت سست ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے بتایا ہے کہ منگل کو دوحہ میں ایک اجلاس ہوگا۔ تاہم سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے سابقہ تیکنیکی مذاکرات کے برعکس اس بار توجہ آبنائے ہرمز کے انتظام اور کشیدگی کم کرنے پر ہوگی۔
منصوبہ بندی سے واقف ایک اور عہدے دار نے بتایا کہ امریکہ اور ایران کی تکنیکی ٹیمیں بدھ کو الگ الگ قطری اور پاکستانی ثالثوں سے ملاقات کریں گی۔
واشنگٹن میں غیر یقینی صورتِ حال
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'دوحہ میں ہونے والی ملاقات شاید اہم ثابت ہو، شاید نہ ہو۔ ہمیں دیکھنا ہوگا۔'
ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'ہم فوجی لحاظ سے کامیابی حاصل کر رہے ہیں' اور ایک بار پھر اس شرط کو دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جانا چاہیے۔
امریکہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ اس نے حالیہ دنوں میں کم از کم دو تجارتی جہازوں پر میزائل یا ڈرون حملے کیے جس کے جواب میں امریکی فوج نے ایرانی فوجی تنصیبات پر بمباری کی۔ امریکی حملوں کے جواب میں ایران نے اتوار کی صبح کویت اور بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے تھے جس کے بعد سے دونوں کے مذاکرات میں غیر یقینی پیدا ہوئی ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔