لبنان میں جنگ بندی کے بعد چار لاکھ شہریوں کی گھر واپسی، نیتن یاہو کا اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ لبنانی علاقے کا دورہ

اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی کے بعد ہزاروں لبنانی خاندان اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں جو جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔
لبنان میں سماجی امور کی وزیر حنین السید کے مطابق اب تک تقریبا 4 لاکھ بے گھر شہری اپنے گھروں کو واپس جا چکے ہیں۔ لیکن یہ چار ماہ سے جاری اسرائیل اور حزب اللہ کی جھڑپوں کے دوران بے گھر ہونے والے 10 لاکھ افراد کا صرف 40 فیصد ہیں۔

تاہم حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ اگلے ہفتے مزید لوگ اپنے گھروں کو واپس آئیں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق لبنانی حکومت کا کہنا ہے کہ اجتماعی پناہ گزین کیمپوں میں بھی لوگوں کی تعداد کم ہوئی ہے جو 37 ہزار سے کم ہو کر 13 ہزار پر آ گئی ہے جب کہ شیلٹرز کی تعداد بھی 692 سے 479 ہو گئی ہے۔
نیتن یاہو کا لبنانی علاقوں کا دورہ
دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کو فوجی افسران کے ساتھ جنوبی لبنان کے ان علاقوں کا دورہ کیا جو اسرائیلی فوج نے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں۔ لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدے کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔

یاد رہے کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی امریکہ کی ثالثی سے ہوئی ہے اور دونوں کے درمیان معاہدے میں یہ شق شامل ہے کہ اسرائیل دو علاقوں سے اپنی افواج نکالے گا اور انہیں لبنانی فوج کے حوالے کرے گا۔
لیکن نیتن یاہو کے دورے کے بعد اسرائیلی افسران نے کہا ہے کہ انخلا میں وقت لگے گا۔ کیوں کہ سرحد سے 10 کلومیٹر اندر تک مین سیکیورٹی زون ہے جو شمالی اسرائیل کو حزب اللہ کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔