پاکستان کا افغانستان سے آنے والے چار ڈرونز تباہ کرنے کا دعویٰ، بلوچستان میں داعش کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا: طالبان حکام کا بیان

پاکستانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے افغانستان سے آنے والے چار ڈرونز کو مار گرایا ہے جب کہ کابل کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان کے اندر قائم داعش کے مبینہ کیمپ کو 'کامیابی سے' نشانہ بنایا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک روز قبل ہی پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کر کے 25 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ جس پر افغان حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام افراد عام شہری تھے۔
پاکستان کی فوج کے ترجمان ادارے 'آئی ایس پی آر' کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے فوری طور پر ڈرونز کی نشان دہی کی اور انہیں ناکارہ بنا دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ ڈرونز افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے منگل کو بلوچستان میں لانچ کیے گئے تھے جن کا مقصد 'اپنے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کی مدد کرنا تھا۔'
بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان طالبان کے ایسے اقدامات ان افغان عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہیں جو ان کے جابرانہ دورِ حکومت میں تکالیف اٹھا رہے ہیں۔ طالبان کو یہ ادراک کرنا چاہیے کہ اس طرح کے غیر ذمے دارانہ رویے افغان عوام کی مشکلات میں صرف اضافہ کریں گے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ 'اگر افغان طالبان پاکستان کے ساتھ اشتعال انگیزی سے باز نہیں آتے تو انہیں بھرپور جواب دیا جائے گا اور انہیں بھاری قیمت چکانا ہوگی۔'
دوسری جانب طالبان حکومت کی وزارتِ دفاع کے نائب ترجمان صدیق اللہ نصرت نے دعویٰ کیا کہ 'افغان ایئرفورس نے' بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے جن میں ان کا 'بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔'
بیان میں ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ حملے انتہائی درستگی سے کیے گئے جن میں کوئی شہری اموات نہیں ہوئیں۔
پشاور کے نواحی علاقے میں ڈرون گرنے کی اطلاعات
پشاور کے نواحی علاقے میں منگل کی رات ایک مبینہ ڈرون حملے میں ایک خاتون کی ہلاکت اور کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مقامی اخبار 'ڈان نیوز' نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ تمام ہلاک و زخمی افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔