یورپ میں صرف 40 ڈگری پر اتنا شور اور پاکستان و انڈیا میں 50 ڈگری پر بھی زندگی معمول پر، ایسا کیوں؟

11:42, 30/06/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 12:03, 30/06/2026, منگل
یورپ میں صرف 40 ڈگری پر اتنا شور اور پاکستان و انڈیا میں 50 ڈگری پر بھی زندگی معمول پر، ایسا کیوں؟
AFP
جرمنی میں پولیس واٹر کینن کے ذریعے چھڑکاؤ کر کے گرمی سے ستائے لوگوں کو راحت پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے۔

سوشل میڈیا، اخبارات، یا ٹی وی۔۔ آج کل ہر جگہ یورپ کی گرمی کے چرچے ہیں۔ برطانیہ، فرانس، اسپین اور اٹلی کے کئی علاقے شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں اور ریڈ الرٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

جرمنی میں ملک گیر ہیٹ وارننگ دی گئی ہے۔ اسپین کے دارالحکومت میڈرڈ میں 39 ڈگری سینٹی گریڈ گرمی کے باعث فیفا کلب ورلڈ کپ کی اسکریننگ بھی منسوخ کر دی گئی ہے۔

لیکن یورپ میں تو اب بھی ٹیمپریچر صرف 40 ڈگری کے آس پاس ہے جب کہ پاکستان، انڈیا اور مڈل ایسٹرن ریجن میں تو 50، 50 ڈگری تک پہنچ رہا ہے پھر بھی زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے۔ تو کیا یورپ کی گرمی کی شدت یہاں سے زیادہ ہے؟

اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ ہاں، وہاں کے ماحول میں اتنی گرمی بھی بہت زیادہ ہے۔ اسی لیے یورپ میں حالیہ ہیٹ ویو میں 1300 کے قریب اموات ہو چکی ہیں۔

گرمی کی شدت صرف تھرمامیٹر پر نظر آنے والے نمبر سے نہیں بلکہ ماحول، انفراسٹرکچر اور انسانی جسم کی عادت سے بھی طے ہوتی ہے۔ جنوبی ایشیا یا مڈل ایسٹرن ریجن میں لوگ صدیوں سے اسی گرمی میں رہتے آئے ہیں، اس لیے وہ اس ماحول کے مطابق ڈھل چکے ہیں۔ جب کہ یورپ ایک سرد علاقہ ہے جہاں زیادہ تر سردی رہتی ہے۔ اب وہاں موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہیٹ ویوز آ رہی ہیں تو لوگ اتنی گرمی کے عادی نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ بھی کئی ماحولیاتی اور جغرافیائی وجوہات ہیں جو یورپ کی گرمی کو جان لیوا بنا رہی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک بڑی وجہ ہیٹ ڈوم ہے یعنی فضائی دباؤ کا ایسا نظام جو گرم ہوا کو ایک ہی علاقے میں قید کر دیتا ہے۔ ہیٹ ڈوم کی وجہ سے آسمان بادلوں سے صاف رہتا ہے، ہوا کم ہو جاتی ہے، فضائی دباؤ کی وجہ سے گرم ہوا اوپر نہیں اٹھ پاتی اور سورج کی روشنی زیادہ دیر تک اور بادلوں کی رکاوٹ کے بغیر زمین پر پڑتی رہتی ہے جس سے گرمی بڑھتی ہی چلی جاتی ہے۔

ایسے سمجھ لیں کہ جیسے ہم کھانا پکاتے ہوئے ہیٹ ٹریپ کرنے کے لیے برتن کے اوپر ڈھکن رکھ دیتے ہیں، کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ اس ہیٹ ڈوم نے ویسٹرن یورپ کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔
AI GENERSTED IMAGE
AI GENERSTED IMAGE
AI GENERSTED IMAGE

ایک اور بڑی وجہ ہے یورپ کا انفراسٹرکچر اور لائف اسٹائل۔ یورپ میں عمارتیں سردیوں سے بچاؤ کو ذہن میں رکھ کر بنائی گئی ہیں۔ یہ عمارتیں گرمی کو اندر قید رکھتی ہیں۔ اور پھر یورپ میں اکثر گھروں میں پنکھے یا اے سی بھی نہیں ہوتے۔ صرف 20 فی صد گھروں میں اے سی ہیں تو گرمی کی شدت کم کرنے کا کوئی انتظام بھی نہیں۔

اس کے علاوہ برطانیہ، آئرلینڈ، فرانس اور بحیرہ روم کے اردگرد سمندر کا پانی بھی زیادہ گرم ہے۔ یہاں رات میں بھی سمندر کی ہوا گرم رہتی ہے جس کی وجہ سے ساحلی علاقوں میں رات کے وقت بھی گرمی کی شدت کم نہیں ہو رہی۔

پھر شہروں میں کنکریٹ، سڑکیں، گاڑیوں اور عمارتوں کی بھی گرمی ہوتی ہے۔ دن بھر جب دھوپ پڑتی ہے تو دیواریں، زمین، فرش گرم ہو جاتے ہیں اور رات میں بھی ٹھنڈی ہوا نہیں چلتی تو یہ گرمی بھی ماحول میں ہی رہ جاتی ہے۔

تو موسم، انفراسٹرکچر، سمندری درجۂ حرارت اور موسمیاتی تبدیلیاں۔ ان تمام عوامل نے مل کر یورپ کی 40 ڈگری گرمی کو بھی غیر معمولی اور خطرناک بنا دیا ہے۔ اور اسی لیے وہاں کی 40 ڈگری گرمی بھی ہماری 50 ڈگری سے زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔

تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026