گرین لینڈ کے قریب 5.7 کلومیٹر لمبا برفانی تودہ 1,200 کلومیٹر بہہ کر جنوب کی طرف رواں دواں
17:59, 16/07/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 17:59, 16/07/2026, جمعرات
ویب ڈیسکAA

AA
فائل فوٹوڈنمارک کے موسمیاتی ادارے کے مطابق گرین لینڈ کے مشرقی ساحل کی ساتھ ساتھ ایک بڑا برفانی تودہ بہہ رہا ہے جو 1,200 کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر کے جنوب کی جانب رواں دواں ہے۔
یہ تودہ تقریباً 5.7 کلومیٹر لمبا اور چار کلومیٹر چوڑا ہے جب کہ سمندر کی سطح سے اس کی اونچائی 10 سے 25 میٹر تک ہے۔
آئس اینالسٹ ہاینس ہنرک لائٹ نے کہا ہے کہ وہ اس آئس برگ کی کئی سالوں سے نگرانی کر رہے ہیں اور اب تک یہ گرین لینڈ کے شمال مشرق میں پھنسا ہوا تھا۔ ان کے مطابق یہ تودہ ایک گلیشیئر سے الگ ہو کر بہنا شروع ہوا تھا۔
سردیوں اور بہار کے موسم میں برفانی تودے مشرقی گرین لینڈ کے ساحل کے ساتھ جنوب کی طرف بہتے ہیں۔ گرمیوں تک یہ جنوبی گرین لینڈ پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کا سائز عموماً سکڑ کر 200 سے 500 میٹر رہ جاتا ہے۔
ڈینش موسمیاتی ادارے کے مطابق وہ برفانی تودوں کی مسلسل نگرانی کرتے ہیں کیوں کہ یہ گرین لینڈ کے سمندری راستوں میں جہازوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی لیے ان کی موجودہ جگہ کو آئس چارٹس میں شامل کیا جاتا ہے جن کی مدد سے جہاز محفوظ راستہ اختیار کرتے ہیں۔
ڈینش موسمیاتی ادارے کا کہنا تھا کہ اس قسم کے بڑے برفانی تودے سال 2000 سے پہلے گرین لینڈ کے مشرقی ساحل پر تقریباً موجود نہیں تھے۔ کیونکہ وہ سارا سال موٹی جمی ہوئی سمندری برف میں پھنسے رہتے تھے۔ ادارے کے مطابق اب ایسے برفانی تودے سامنے آرہے ہیں کیوں کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے برف پگھل رہی ہے۔
