اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر پر حملے کی مذمت

11:19, 12/09/2025, جمعہا: اپ ڈیٹ: 11:30, 12/09/2025, جمعہ
اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل کی اسرائیل کا نام لیے بغیر قطر پر حملے کی مذمت
ایجنسیروئٹرز
کونسل کے ارکان نے یہ بیان ہنگامی اجلاس سے قبل جاری کیا، جو جمعرات کو طلب کیا گیا ہے

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل کا نام لیے بغیر قطری دارالحکومت دوحہ پر حملے کی مذمت کی ہے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔

یہ بیان کونسل کے تمام 15 ارکان، بشمول اسرائیل کے قریبی اتحادی امریکا، نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

کونسل کے ارکان نے یہ بیان ہنگامی اجلاس سے قبل جاری کیا، جو جمعرات کو طلب کیا گیا ہے تاکہ دوحہ میں حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی حملوں پر بات کی جا سکے۔

دوحہ حملے میں حماس کے پانچ ارکان ہلاک ہوئے تھے، تاہم فلسطینی گروپ کا کہنا ہے کہ اس کی قیادت حملے سے بچ گئی ہے۔ اس غیر معمولی حملے میں ایک قطری سیکیورٹی اہلکار بھی مارا گیا، جس نے خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے۔

یہ حملہ اس وقت ہوا جب حماس کے رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے نئے معاہدے پر غور کے لیے ملاقات کر رہے تھے۔

فرانس اور برطانیہ کی جانب سے تیار کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’کونسل کے ارکان نے کشیدگی میں کمی کی اہمیت پر زور دیا اور قطر کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔‘ تاہم اس بیان میں اسرائیل کا نام واضح طور پر نہیں لیا گیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ’یرغمالیوں کی رہائی، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو حماس کے ہاتھوں مارے گئے اور غزہ میں جنگ اور مشکلات کا خاتمہ، سب سے بڑی ترجیح ہے۔‘ غزہ میں اب بھی 40 سے زائد قیدی موجود ہیں، جن میں سے صرف 20 کے زندہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب امریکہ نے بھی سخت ردعمل دیا۔ قائم مقام امریکی سفیر ڈوروتھی شیا نے کہا کہ ’قطر کے اندر یکطرفہ بمباری نہ تو اسرائیل کے مقاصد کو آگے بڑھائے گی اور نہ ہی امریکہ کے۔‘

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’امریکہ قطر پر اسرائیل کے حملے کا دفاع نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرے گا۔‘

الیزونڈو نے کہا کہ ’یہ بات صاف ہے کہ امریکہ اب بھی اسرائیل کی حمایت کرتا ہے۔ یہ بھی صاف ہے کہ امریکہ سلامتی کونسل میں اسرائیل کا تحفظ کرے گا، لیکن یہ واقعہ امریکہ کے لیے حد سے بڑھ جانے کے مترادف تھا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے گھنٹوں اور دنوں میں ہمیں وائٹ ہاؤس کی طرف سے اس معاملے پر مزید وضاحت ملتی ہے یا نہیں۔‘

منگل کے حملے کے بعد وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ جب صدر کو اس حملے کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے مبینہ طور پر اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف کو فوری طور پر قطر کو خبردار کرنے کا کہا، لیکن اس وقت تک حملہ شروع ہو چکا تھا۔


یہ بھی پڑھیں:
نیتن یاہو کا قطر پر حملے سے متعلق بیان: دوحہ پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام اور پاکستان کا بھی ذکر
دنیا
نیتن یاہو کا قطر پر حملے سے متعلق بیان: دوحہ پر دہشت گردوں کو پناہ دینے کا الزام اور پاکستان کا بھی ذکر
ترکیہ نے شام میں اپنے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی دعووٴں کی تردید کردی
تازہ ترین
ترکیہ نے شام میں اپنے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے اسرائیلی دعووٴں کی تردید کردی
قطر کیوں اہم ہے اور حماس کے رہنما یہاں کیوں رہتے ہیں؟
تازہ ترین
قطر کیوں اہم ہے اور حماس کے رہنما یہاں کیوں رہتے ہیں؟
اسرائیل کا قطر کے دارالحکومت دوحا میں فضائی حملہ، حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
دنیا
اسرائیل کا قطر کے دارالحکومت دوحا میں فضائی حملہ، حماس کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
اسرائیل کا قطر پر حملہ: حماس کے کون سے رہنما بچ گئے اور مارے جانے والے چھ افراد کون ہیں؟
دنیا
اسرائیل کا قطر پر حملہ: حماس کے کون سے رہنما بچ گئے اور مارے جانے والے چھ افراد کون ہیں؟
حماس کے وہ رہنما جو اسرائیل کی ’موسٹ وانٹڈ لسٹ‘ میں ہیں
دنیا
حماس کے وہ رہنما جو اسرائیل کی ’موسٹ وانٹڈ لسٹ‘ میں ہیں
’اگر حماس کی قیادت بچ گئی ہے تو اگلی بار مار دیں گے‘: اسرائیلی رہنماؤں کے عالمی تنقید کے باوجود جارحانہ بیانات
دنیا
’اگر حماس کی قیادت بچ گئی ہے تو اگلی بار مار دیں گے‘: اسرائیلی رہنماؤں کے عالمی تنقید کے باوجود جارحانہ بیانات


تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026