روسی صدر انڈیا کا دورہ کیوں کررہے ہیں؟

15:23, 04/12/2025, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 16:49, 04/12/2025, جمعرات
روسی صدر انڈیا کا دورہ کیوں کررہے ہیں؟
ایکسفائل
سرد جنگ ختم ہونے کے بعد انڈیا نے امریکہ کے ساتھ اپنے فوجی اور اسٹریٹجک تعلقات مضبوط کیے، لیکن ساتھ ہی روس سے دوستی بھی جاری رکھی۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن جمعرات کو انڈیا کے دورے پر پہنچ رہے ہیں، جو تقریباً چار سال قبل یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد ان کا پہلا دورہ ہے۔

یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ کی جانب سے جنگ ختم کرانے کی نئی کوششیں ایک بار پھر تعطل کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔

پوتن کا یہ 30 گھنٹے کا مختصر دورہ ایسے وقت میں بھی ہو رہا ہے جب واشنگٹن اور نئی دہلی کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے، کیونکہ امریکہ نے روس کے ساتھ انڈیا کے پرانے قریبی تعلقات اور یوکرین جنگ کے دوران روسی تیل کی خریداری میں اضافے پر انڈیا کو اضافی ٹیرف اور پابندیوں کی دھمکی دی ہے۔

سرد جنگ ختم ہونے کے بعد انڈیا نے امریکہ کے ساتھ اپنے فوجی اور اسٹریٹجک تعلقات مضبوط کیے، لیکن ساتھ ہی روس سے دوستی بھی جاری رکھی۔

لیکن یوکرین پر روس کے حملے نے اس توازن کو ہلا دیا ہے اور پوتن کا آج ہونے والے دورے سے پتا چلتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کس طرح روس اور مغرب دونوں کے ساتھ تعلقات کو بیک وقت سنبھالنے کی کوشش کریں گے۔


پوتن انڈیا میں کیا کریں گے؟

پوتن جمعرات کی شام انڈیا پہنچیں گے اور وزیراعظم مودی کے ساتھ ایک نجی ڈنر میں شریک ہوں گے

جمعہ صبح وہ انڈیا کے صدر سے ملاقات اور گارڈ آف آنر کے لیے راشٹرپتی بھون جائیں گے۔

پھر وہ راج گھاٹ میں مہاتما گاندھی کی یادگار پر جائیں گے۔

اس کے بعد حیدرآباد ہاؤس میں مودی اور پوتن کی ون آن ون ملاقات ہوگی، جس میں دونوں ملکوں کے تعلقات پر بات چیت ہوگی۔دونوں رہنما کاروباری شخصیات سے ملاقات بھی کریں گے۔آخر میں، انڈیا کی صدر کی جانب سے پوتن کے اعزاز میں دیا گیا خصوصی عشائیہ ہوگا۔

پوتن کے ساتھ ان کے وزیر دفاع اور روس کی بڑی تیل و اسلحہ کمپنیوں کے اہم حکام بھی آرہے ہیں، جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے لیے بہت اہم ہے۔


ایجنڈے میں کیا شامل ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق پوتن انڈیا کے ساتھ دفاعی تعلقات بڑھانے کے لیے مزید روسی میزائل سسٹمز اور لڑاکا طیارے فروخت کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ تجارت بڑھانے کے لیے ادویات، مشینری اور زرعی مصنوعات جیسے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے پر زور دیں گے۔

کرسس گروپ کے سینئر تجزیہ کار پروین ڈونتھی کے مطابق یہ سربراہی اجلاس دونوں ممالک کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اپنے ’خصوصی تعلقات‘ کا دوبارہ اظہار کریں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت پر اضافی ٹیکس (ٹریف) اور دباؤ ڈال رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پوتن اس دورے سے سیاسی فائدہ بھی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ بین الاقوامی امور کے پروفیسر راجن کمار کے مطابق پوتن یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ روس دنیا میں تنہا نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب پوتن پر یوکرین کی جنگ کے باعث عالمی دباؤ ہے، ایسے میں ایک بڑی جمہوری ملک (انڈیا) ان کا خیرمقدم کر رہی ہے، یہ پوتن کے لیے ایک مضبوط پیغام ہوگا۔‘

لیکن ان سب کے باوجود سب سے بڑا مسئلہ تیل کی تجارت ہے، جو اب خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انڈیا اور روس کے تعلقات کی بنیاد یہی تیل کا کاروبار ہے اور اسی پر دباؤ بڑھنے سے مذاکرات میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔




تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026