بنگلادیش: طلبہ تحریک کا فوج کی حمایت یافتہ حکومت قبول کرنے سے انکار

طلبا مظاہرین فوج کی حمایت والی حکومت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ بنگلا دیش اسٹوڈنٹ پروٹیسٹ کوآرڈینیٹر نے فیس بک پر ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وہ فوجی حکمرانی کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے امن کے نوبل انعام یافتہ محمد یونس کو بطور چیف ایڈوائزر نئی عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا۔
بنگلادیش اسٹوڈنٹ مومنٹ کے ناہید اسلام نے ویڈیو میں کہا کہ ’ہماری تجویز کردہ حکومت کے علاوہ کسی بھی حکومت کو قبول نہیں کیا جائے گا، ملک میں نوبل انعام یافتہ بنگلا دیشی ماہر اقتصادیات پروفیسر محمد یونس کی نگرانی میں جلد از جلد عبوری حکومت تشکیل دی جائے۔‘
84 سالہ محمد یونس نے 2006 میں امن کا نوبل انعام جیتا تھا۔ انہوں نے گرامین بینک کی بنیاد رکھی اور ایک مائیکرو کریڈٹ پروگرام بنایا جس سے لاکھوں لوگوں کو غربت سے بچنے میں مدد ملی۔
جون میں بنگلا دیش کی ایک عدالت نے ان پر رقم کی چوری یا اس کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا لیکن انہوں نے ان الزامات کی تردید کی۔ ان حامیوں نے کہا کہ محمد یونس پر سیاسی وجوہات کی بنا پر انہیں نقصان پہنچانے کے لیے الزام لگایا جارہا ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔