’ہم آزاد ہوگئے، آج ہم نے تاریخ لکھی ہے‘، مظاہرین کا شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کا جشن

شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کی خبروں کے بعد نوجوان مظاہرین نے سڑکوں پر جشن منایا اور نعرے بازی کی۔
کئی مظاہرین نے حسینہ واجد کی سرکاری رہائش گاہ پر حملہ کیا اور جو ہاتھ لگا اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہوئے دکھائی دیے۔
کئی لوگوں نے مٹھایاں بھی تقسیم کیں، اس موقع پر ایک نوجوان نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی بنگلا کو بتایا کہ ’یہ ہمارے لیے ایک فتح ہے، ہم بہت خوش ہیں کیونکہ حسینہ کی برسوں کی آمریت کے بعد ہمیں آزادی ملی، ہمیں اپنی اظہار رائے کی آزادی واپس مل گئی ہے۔‘
تنویر نامی نوجوان نے بتایا کہ ’آج ہم نے تاریخ لکھی ہے۔ میں پچھلے مہینے سے اس احتجاج کا حصہ رہا ہوں۔ ان مظاہروں میں میرا بایاں ہاتھ مکمل جل چکا ہے اور کئی بار ربڑ کی گولیاں میرے قریب سے گزری ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’یہ ہماری پہلی فتح تھی لیکن ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’وزیر اعظم کے مستعفی ہونے کے بعد بھی ان کا پورا گھر لوٹ لیا گیا۔ یہ وہ چیز نہیں ہے جس کی میں امید کر رہا تھا۔‘
تنویر نے کہا کہ ’مکمل فتح حاصل کرنے کے لیے ابھی مزید جدوجہدر کرنی ہے اور مزید لڑائیاں لڑنی ہے کیونکہ ہم مہذب اور تعلیم یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں‘۔
فاطمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں یہاں اپنی آزادی کا جشن منا رہی ہوں۔ میرا ملک دوبارہ آزاد ہوچکا ہے۔ میں، میرے بھائیوں اور بہنوں نے اس کے لیے جدوجہد کی ہے۔ اور آخر کار ہمیں آزادی مل گئی ہے۔ ہم وہ کریں گے جو ہمیں کرنا پسند ہے۔ وہ نہیں جو دوسرے ہمیں کہیں گے۔‘
تعلیمی ادارے کھل گئے لیکن کلاسز خالی
بنگلہ دیش فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے پیر کی رات اعلان کیا تھا کہ تمام تعلیمی ادارے منگل سے دوبارہ کھل جائیں گے۔
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ کلاسز کب دوبارہ شروع ہوں گی۔
ڈھاکہ یونیورسٹی کے ایک طالب علم افسر مُنا نے منگل کی صبح بی بی سی بنگالہ سروس کو بتایا کہ ’تعلیمی ادارے کھل چکے ہیں لیکن کلاسز خالی ہیں‘۔
جگناتھ یونیورسٹی کے ایک اور طالب علم نے بھی کہا کہ کیمپس کھلنے کے باوجود کلاسز شروع نہیں ہوئی تھیں۔
راجشاہی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم نے کہا کہ ان کی یونیورسٹی ابھی تک نہیں کھلی۔ ’میں نے سنا ہے کہ آج طلبہ خود ہال کھولیں گے اور اندر جائیں گے‘۔
جہانگیر نگر یونیورسٹی کے ایک طالب علم تنویر حسیب نے کہا کہ بہت سے طلباء گھر جا چکے ہیں اور انہیں ڈھاکہ واپس آنے میں وقت لگے گا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ بنگلہ دیش کے مختلف حصوں میں یونیورسٹی اساتذہ کی تنظیم یونیورسٹی ٹیچرز نیٹ ورک آج مقامی وقت کے مطابق 11 بجے میٹنگ کرے گی۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔