بنگلادیش: شیخ حسینہ کے مستعفی ہونے کے بعد ملک کا کنٹرول کون سنبھالے گا؟

بنگلادیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد عہدہ چھوڑ کر انڈیا فرار ہوگئیں
حسینہ واجد نے پیر کے روز ایسے وقت میں استعفیٰ دیا جب کئی ہفتوں سے نوجوان طلبا پرتشدد مظاہرے کررہے تھے۔ کئی بار مارشل لا لگنے کے خطرات بھی منڈلاتے رہے۔ اب یہ سوال کیا جارہا ہے کہ ملک کا کنٹرول کون سنبھالے گا؟
قوم سے خطاب کرتے ہوئے بنگلادیش کے آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے اعلان کیا کہ اب عبوری حکومت بنگلادیش کا کنٹرول سنبھالے گی، انہوں نے عوام سے پرامن رہنے کی اپیل بھی کی۔
دوسری جانب پیر کی شب قوم سے خطاب میں صدر محمد صحاب الدین نے کہا ہے کہ جلد ہی عبوری حکومت قائم ہو جائے گی جو قبل از وقت انتخابات کرائے گی۔
صدر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم اور بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا کو رہا کرنے اور طلبہ تحریک سمیت دیگر مقدمات میں زیر حراست تمام قیدیوں کو بھی رہا کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا اور زخمیوں کا علاج کیا جائے گا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملک میں 17 دن بعد منگل کی صبح سے کرفیو ختم کیا جا رہا ہے۔ منگل سے سرکاری و نجی دفاتر، عدالتیں، تعلیمی ادارے، کارخانے کھول دیے جائیں گے۔
شیخ حسینہ کے بیٹے نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ان کی والدہ سیاست میں واپسی کا کوئی ارادہ نہیں رکھتیں۔ ان کے مطابق شیخ حسینہ ’اپنی سخت محنت کے بعد بہت مایوس ہیں کہ ایک اقلیت ان کے خلاف کھڑی ہوئی۔‘
ناقدین کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد کے دور میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور اپوزیشن شخصیات اور حکومت پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوا تھا۔
دو دہائیوں تک ملک پر حکمرانی کرنے والی حسینہ واجد پیر کو فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے انڈیا روانہ ہوئیں جس کے بعد لوگوں نے ان کی رہائش گاہ پر دھاوا بول دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ حسینہ واجد کو لے جانے والا ایک ہیلی کاپٹر نئی دہلی کے قریب ہندن ایئر بیس پر اترا۔
شیخ حسینہ واجد کا استعفیٰ اُس وقت آیا جب کئی ہفتوں سے جاری مظاہروں میں تقریباً 300 افراد ہلاک ہو گئے۔ اتوار کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان دوبارہ ہونے والی جھڑپ میں 100 کے قریب لوگ ہلاک اور کرفیو کا اعلان کر دیا گیا تھا۔
بنگلادیش کا اقتدار کون سنبھال سکتا ہے؟
شیخ حسینہ کے اچانک استعفے کے بعد ملک کا اقتدار سنبھالنے کے لیے تین اہم شخصیات کے نام سامنے آئے ہیں جو ملک کا کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔
خالدہ ضیا
ان اہم شخصیات میں سے ایک خالدہ ضیا ہیں جو اپوزیشن جماعت بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی چیئرپرسن ہیں، وہ سابق وزیراعظم بھی وہ چکی ہیں۔ انہوں نے 1991 سے 1996 تک وزیر اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں لیکن انہیں 2018 میں کرپشن کے الزام میں جیل بھیج دیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات سیاسی بنیاد پر لگائے گئے ہیں۔ 78 سالہ خالدہ ضیا کی رہائی کا حکم حسینہ واجد کے فرار ہونے کے چند گھنٹوں بعد دیا گیا۔
شفیق الرحمان
ملک کا اقتدار سنبھالنے کے لیے ایک اور اہم شخصیت شفیق الرحمان ہیں، جو بنگلا دیش کی سب سے بڑی اسلام پسند سیاسی جماعت، جماعت اسلامی کے سربراہ ہیں۔ کئی سالوں سے اقتدار سے دور رہنے کے باوجود جماعت اسلامی نے بنگلہ دیش میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھا ہے۔ انہوں نے ماضی میں بی این پی کے ساتھ اتحاد کیا ہے اور کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ اگر آج الیکشن ہوتے ہیں تو یہ اتحاد جیت سکتا ہے۔
طلبہ تحریک کی عبوری حکومت
بنگلہ دیش طلبا کے احتجاج کے کوآرڈینیٹرز نے بھی ایک نئی عبوری حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے جس میں نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کو اس کا چیف ایڈوائزر بنایا گیا ہے۔
طلبہ تحریک کا کہا ہے کہ وہ ’کسی بھی فوج کی حمایت یافتہ یا فوج کی قیادت والی حکومت کو قبول نہیں کریں گے‘۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔