ایران نے اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری کردی

ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور نے کہا ہے کہ حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو تہران میں ان کی رہائش گاہ کے باہر سے ’شارٹ رینج پروجیکٹائل‘ سے نشانہ بنایا گیا۔
واضح رہے کہ 31 جولائی کو اسماعیل ہنیہ ایران کے دارالحکومت تہران میں قتل کردیے گئے تھے، ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا کہ انہیں ایک میزائل حملے سے ان کی رہائش گاہ پر نشانہ بنایا گیا۔ہنیہ ایران کے نومنتخب مسعود پیزشکیان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے تہران میں موجود تھے۔
حماس نے اس حملے کا الزام اسرائیل کو ٹھہرایا ہے جبکہ اسرائیل نے اب تک اس حملے کی تصدیق کی ہے نہ تردید۔
دوسری جانب امریکا اس حملے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور نہ امریکا اس حملے میں ملوث ہے۔
ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کی جانب سے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ واقعے سے 4 روز بعد جاری کی گئی ہے۔
اسلامی انقلابی گارڈ کور نے اپنے بیان میں کہا کہ اب تک کی گئی تحقیقات کے مطابق ہنیہ پر حملہ کم فاصلے سے مارنے والے پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا جس میں تقریباً 7 کلو گرام دھماکہ خیز مواد تھا۔
اس میں مزید کہا گیا کہ اسماعیل ہنیہ پر حملے کا بدلہ شدید ہوگا، مناسب وقت، جگہ اور طریقے سے بدلہ لیں گے۔ اسرائیل کو اس حملے میں امریکا کی مدد شامل تھی۔
سیکیورٹی تجزیہ کار ایچ اے ہیلیر کے مطابق ایران اسماعیل ہنیہ کے قتل کے طریقہ کار کو بیان کرنے کے لیے جو بیانیہ اپنائے گا وہ اسرائیل کے خلاف اس کی شدت میں اضافہ کرے گا۔
یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ ہنیہ کو کیسے قتل کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں کوئی بھی پیشرفت تنازع میں اضافہ کرے گی
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔