پاکستان میں اسماعیل ہنیہ کے قتل پر سوگ کا اعلان

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایران کے دارالحکومت تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آج دو اگست کو ملک بھر میں یومِ سوگ کا اعلان کیا ہے۔
شہباز شریف نے یہ اعلان پچھلے روز ایک اجلاس میں کہا جہاں اسماعیل ہنیہ کی ہلاکت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔
شہباز شریف نے کہا کہ اسماعیل ہنیہ کے قتل پر پاکستان، ترکیہ، روس، ایران، چین، ملائیشیا سمیت دنیا کے کئی ممالک نے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی انہوں نے مزید کہا کہ اسماعیل ہنیہ کے بچوں اور پوتوں کو بھی بے رحمی سے شہید کیا گیا تھا۔
شہباز شریف نے کہا کہ فلسطین میں گزشتہ 9 مہینے سے خونریزی جاری ہے جس میں روزانہ کئی بے گناہ فلسطینیوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ اب تک ہزاروں بچوں سمیت 40 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا اس بربریت پر خاموش ہے۔ اس طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی قابل مذمت ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ نیتن یاہو فلسطین کو تباہ کرنے کے راستے پر ہیں۔ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کے واضح فیصلوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل اپنی وحشیانہ کارروائیوں سے باز نہیں آرہا۔
انہوں نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے دو اگست کو پاکستان میں یوم سوگ کا اعلان کیا اور ملک بھر میں نماز جمعہ کے بعد اسماعیل ہنیہ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس میں قرار داد پیش کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔
اسماعیل ہنیہ کی موت کیسے ہوئی؟
31 جولائی کو ایران کے شہر تہران میں حماس کے پولیٹیکل بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو ایک فضائی حملے میں قتل کر دیا گیا تھا تاہم اسرائیل نے ان کی موت کی نہ تصدیق کی اور نہ تردید کی ہے۔
حماس نے اس حملے کا الزام اسرائیل کو ٹھہرایا ہے۔
اسماعیل ہنیہ کی موت کی تحقیقات سے متعلق ایران کی جانب سے کوئی رپورٹ جاری نہیں ہوئی تاہم ابتدائی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ہنیہ کی موت میزائل حملے کی وجہ سے ہوئی جو ان کی رہائش گاہ پر گرا تھا۔
البتہ امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اسماعیل ہنیہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب کے گیسٹ ہاؤس کے اندر ہونے والے دھماکے سے ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے کمرے میں دھماکہ خیز مواد لگ بھگ دو ماہ قبل نصب کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں دو ایرانی عہدے داروں سمیت مشرقِ وسطیٰ کے 7 حکام نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نیویارک ٹائمز کوبتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ اسماعیل ہنیہ تہران کے جس گیسٹ ہاؤس میں قیام پذیر تھے وہ جس کمپاؤنڈ میں واقع ہے اس کا کنٹرول ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے پاس تھا۔ یہ کمپاؤنڈ کئی سرکاری عمارات کے ایک سلسلے کا حصہ ہے جسے ’نشاط‘ کہا جاتا ہے۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔