اولمپکس 2024: ارشد ندیم اور نیراج چوپڑا نے جیولن تھرو کے فائنل راوٴند کیلئے کوالیفائی کرلیا

پاکستانی اسٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم نے پریس اولمپکس 2024 میں جیولن تھرو کے فائنل راوٴنڈ کے لیے کوالیفائی کرلیا ہے۔
ارشد ندیم نے اولمپکس میں 86.59 میٹر تھرو کی اور فائنل راؤنڈ کے لیے کوالیفائی کر لیا۔ اس وقت وہ گروپ بی میں چوتھے نمبر پر ہیں جب کہ انڈیا کے نیرج چوپڑا 89.34 میٹر کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔
فائنل راؤنڈ میں جگہ بنانے کے لیے کھلاڑیوں کو کم از کم 84 میٹر تھرو کرنا تھا۔
ارشد ندیم نے اپنے انسٹاگرام اکاوٴنٹ پر ویڈیو پیغام کے ذریعے فائنل راوٴنڈ میں کامیابی کے لیے مداحوں سے دعاوٴں کی اپیل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پلیز میرے لیے دعا کریں، فائنل راوٴنڈ 8 اگست کو رات 11 بجکر 25 منٹ پر ہے، دعا کریں تاکہ میں اچھی کارکردگی دکھا کر پاکستان کے لیے میڈل جیت سکوں‘۔
پاکستان نے آخری بار اولمپکس میں 1992 میں ہاکی میچ میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔ ارشد ندیم بین الاقوامی سطح پر 9 بار میڈل جیت چکے ہیں اور 4 بار گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔
پاکستان نے پہلی بار سال 1992 کے بعد سے صرف ایک میڈل جیتا ہے جب تب پاکستان ہاکی ٹیم نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔
ارشد ندیم پاکستان کے لیے کامن ویلتھ گیمز میں 4 سونے اور عالمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں 9 چاندی کا تمغہ جیت چکے ہیں۔
پاکستانی اسٹار کھلاڑی نے پچھلے سال ورلڈ چیمپیئن شپ میں چاندی کا تمغہ جیتا تھا اور 2022 میں کامن ویلتھ گیمز میں 90.18 میٹر تھرو کے ساتھ سونے کا تمغہ جیتا تھا۔
کوالیفائنگ راؤنڈ میں گروپ اے میں جرمنی کے جولین ویبر 87.76 میٹر کے تھرو کے ساتھ سرفہرست رہے، کینیا کے جولیس یگو 85.97 میٹرتھرو کے ساتھ دوسرے اور چیک ایتھلیٹ جیکب وڈلیجچ 85.63 میٹر تھرو کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہیں۔
گروپ بی میں انڈیا کے نیراج چوپڑا 89.34 میٹرتھرو کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔ ان کے بعد گریناڈین ایتھلیٹ اینڈرسن پیٹرز 88.63 میٹرتھرو کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
ارشد ندیم کا تعلق پاکستان کے صوبے پنجاب کے شہر خانیوال سے ہے۔
ارشد ندیم کے والد کہتے ہیں کہ ’لوگوں کو نہیں معلوم کہ ارشد آج اس مقام پر کیسے پہنچا۔ کس طرح اس کے ساتھی گاؤں والے اور رشتہ دار پیسے دیتے تھے تاکہ وہ اپنی ایونٹ میں جانے اور ٹریننگ کے لیے دوسرے شہروں کا سفر کر سکے۔‘
والد محمد اشرف کو امید ہے کہ ارشد ندیم سونے کا تمغہ جیت کر ملک میں ایک تاریخ رقم کریں گے۔ ’اگر میرا بیٹا پاکستان کے لیے اولمپک میڈل جیت لیتا ہے تو یہ ہمارے اور گاؤں کے لیے فخر کا لمحہ ہوگا۔‘
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔