’سوریا کمار یادو کا شاندار کیچ اور کوہلی کی اننگز‘، انڈیا ٹی 20 ورلڈکپ 2024 کا چیمپئن بن گیا

سوریا کمار یادو کا عمدہ کیچ، ویرات کوہلی کی ٹورنامنٹ کی پہلی نصف سنچری اور ہاردک پانڈیا کی عمدہ بولنگ سے انڈیا 13 سال کے طویل عرصے بعد آئی سی سی ٹی 20 ورلڈکپ کا چیمپئن بن گیا۔
بارباڈوس کے برج ٹاؤن میں کینسنگٹن اوول میں ہونے والے سنسنی خیز میچ میں انڈیا نے جنوبی افریقہ کو 7 رنز سے شکست دے کر آئی سی سی ٹی 20 ٹرافی اپنے نام کرلی۔
انڈیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور جنوبی افریقہ کو 177 کا بڑا ٹارگٹ کیا تھا۔
ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جنوبی افریقہ کو جب 45 گیندوں پر 71 رنز کی ضرورت تھی، کوئنٹن ڈی کاک اور ہینرک کلاسن وکٹ پر تھے اور چھ وکٹیں باقی تھیں تو ایسا لگ رہا تھا کہ جنوبی افریقہ دوسری بار عالمی چیمپئن بننے کے قریب ہے۔
لیکن انڈین بولرز نے ان کے برسوں کو یہ خواب پورا نہ ہونے دیا۔ آل راؤنڈر ہاردک پانڈیا نے اپنے پہلے ہی اوور میں کلاسن کا شکار کیا اور پھر سوریہ کمار یادو کے شاندار کیچ کے ساتھ ڈیوڈ ملر کی اہم وکٹ بھی حاصل کی۔
جس کے بعد جسپریت ہمراہ کی سوئنگ گیند نے مارکو جانسن کو بولڈ کر کے انڈیا کے جیت کے امکانات واضح کردیے۔
انڈیا کی طرف سے پانڈیا نے تین، ارشدیپ سنگھ اور بمراہ نے دو دو جبکہ اکشر پٹیل نے ایک وکٹ حاصل کی۔
’کوہلی نے اپنی پرفارمنس فائنل کے لیے بچا کر رکھی تھی‘
لیکن میچ اپنے سنسنی خیز فائنل تک پہنچنے سے بہت پہلے، یہ ہندوستان کا محدود اوورز کا بیٹنگ ہیرو تھا جس نے جنوبی افریقہ کو ایک مشکل ہدف دینے میں اپنی ٹیم کی مدد کی۔
ورلڈکپ 2024 کی سات اننگز میں صرف 75 رنز بنانے والے ویرات کوہلی کی پرفارمنس سے سبھی شائقین مایوس تھے لیکن کپتان روہت شرما کو یقین تھا کہ وہ فائنل میں ضرور پرفارم کریں گے۔
1.4 اوورز میں جب روہت شرما صرف نو رنز بنا کر کیچ آوٴٹ ہوئے تو تو انڈیا کی بیٹنگ لڑکھڑا گئی، اننگز کے آغاز میں 23 رنز کے مجموعی اسکور پر انڈیا کی تین وکٹیں گر گئی تھیں۔
رشبھ پنت نے صرف دو گیندیں کھیل کر صفر پر آوٴٹ ہوئے اور سوریا کمار یادو بھی صرف تین رن بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
اس کے بعد اوپنر ویرات کوہلی اور اکشر پٹیل نے بیٹنگ لائن کو سنبھالا اور اسکور 114 تک لے گئے۔
کوہلی کے چار چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے انڈیا کا رن ریٹ دوبارہ واپس آیا، اہم موقع پر وکٹ کیپر کوئنٹن ڈی کاک کی عمدہ بولنگ سے اکشر پٹیل گیندوں پر 47 رن بنا کر رن آؤٹ ہو گئے۔
جس کے بعد ویرات کوہلی نے شوم دوبے کی مدد سے ٹیم کو سہارا دیا اور کوہلی چھ چوکے اور دو چھکے کی مدد سے 76 رنز پر کیچ آوٴٹ ہوئے۔
یہ کوہلی کی ٹورنامنٹ کی پہلی نصف سنچری تھی۔
اس کے بعد جڈیجہ نے دو رنز اور پانڈیا نے پانچ رنز کا اضافہ کرکے جنوبی افریقہ کو 177 رنز کا بڑا ہدف دیا۔
یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی تاریخ میں کسی بھی فائنل میچ میں یہ اب تک کا سب سے بڑا ہدف تھا۔
جنوبی افریقہ کی طرف سے کیشو مہاراج اور ہینرک نورکیا نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
کوہلی پلئیر آف دی میچ
ویرات کوہلی کو پلئیر آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ ’میں اپنی ٹیم کے لیے رنز بنانے پر فخر محسوس کررہا ہوں جب انڈیا کو سب سے زیادہ ضرورت تھی، ہم طویل عرصے سے اس ٹرافی کا اٹھانا چاہتے تھے‘۔
کپتان روہت شرما نے کہا کہ ’مجھے اپنے لڑکوں اور مینجمنٹ پر فخر ہے کہ انہوں نے ہم پر بھروسہ کیا‘۔
جنوبی افریقہ کے کپتان ایڈن مارکرم نے کہا کہ ’ہم نے پورے ٹورنامنٹ پر بہت اچھا کھیل پیش کیا لیکن آج فائنل نہ جیت کر بہت تکلیف ہورہی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’میری ٹیم نے پورے ٹورنامنٹ میں بہترین مقابلہ کیا، مجھے اپنی ٹیم پر فخر ہے لیکن بدقسمتی سے میچ نہ جیت سکے امید ہے کہ ہم اس سے سبق سیکھیں گے، آج کا دن ہمارے لیے فخر کا دن ہے‘۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔