ٹی 20 ورلڈ کپ: جنوبی افریقہ پہلی بار فائنل میں پہنچ گیا، 56 رنر پر آل آوٴٹ ہونے والی افغان ٹیم کا خواب ٹوٹ گیا

آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈکپ کے سیمی فائنل میں جنوبی افریقہ نے افغانستان کو 11.5 اوورز میں 56 رنز پر آل آوٴٹ کرکے تاریخی شکست دے دی اور پہلی بار فائنل میں پہنچ گیا۔
برائن لارا اسٹیڈیم میں جمعرات کو ورلڈکپ کا سیمی فائنل کھیلا گیا جہاں جنوبی افریقہ نے افغانستان کو 9 وکٹوں سے شکست دی اور فائنل تک رسائی حاصل کرلی۔
یہ پہلا موقع ہے جب ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہنے والی جنوبی افریقہ نے کسی ورلڈ کپ (ٹی20 اور ون ڈے) کے فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
پہلے افغانستان نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا۔
57 رنز کے معمولی ہدف کے تعاقب میں جنوبی افریقہ نے ایک وکٹ کے نقصان پر 8.5 اوورز میں میچ جیت لیا۔
ابتدائی اوورز میں جنوبی افریقہ کے کوئنٹن ڈی کاک کو افغان باؤلر فضل الحق فاروقی نے آؤٹ کیا تاہم بعد میں کپتان ایڈن مارکرم اور اوپنر رضا ہینڈرکس نے بیٹنگ لائن کو سنبھالا اور ہدف آسانی سے حاصل کر لیا۔
پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے افغانستان کی پہلی وکٹ 0.6 اوورز پر گری جس کے بعد تبریز شمسی اور مارکو جیسن کی دھوان دھار باوٴلنگ کی وجہ سے ایک بھی افغان کھلاڑی وکٹ پر زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکا۔
افغان ٹیم کی جانب سے عظمت اللہ عمرزئی 10 رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے، رحمان اللہ گرباز، محمد نبی اور نور احمد صفر پر آؤٹ ہوئے۔
افغانستان کی پوری ٹیم 11.5 اوورز میں صرف 56 رنز پر ڈھیر ہوگئی جو ورلڈ کپ کی تاریخ میں سیمی فائنل کا سب سے کم اسکور ہے۔
جنوبی افریقہ مارکو جانسن اور تبریزی شمسی نے تین تین وکٹیں حاصل کیں جبکہ کاگیسو ربادا اور اینریچ نورٹجے نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔
کس نے کیا کہا؟
افغانستان کے کپتان راشد خان نے کہا کہ ’بطور ٹیم ہمارے لیے یہ ایک مشکل میچ تھا۔ ہم اس سے کچھ بہتر کر سکتے تھے، لیکن حالات نے ہمیں ایسا نہیں ہونے دیا۔ ٹی 20 میں آپ کو کسی بھی صورتحال کے لیے ہر وقت تیار ہونا چاہیے۔ جنوبی افریقا نے غیر معمولی طور پر اچھی بولنگ کی لیکن ہم اچھی بیٹنگ نہیں کر سکے۔‘
’اس ٹورنامنٹ میں ہمارے لیے سب سے خاص بات یہ تھی کہ ہم نے بڑی ٹیموں کو ہرایا، ہمارے لیے یہ صرف شروعات ہے۔ اب ہمیں یقین ہے کہ ہم کسی کو بھی شکست دے سکتے ہیں۔‘
انگلینڈ کے سابق باؤلر اسٹیون فن کہتے ہیں کہ ’مجھے افغانستان کے لیے افسوس ہے کہ وہ فائنل میں نہیں پہنچ سکے، ان کے ساتھ اچھا نہیں ہوا‘۔
جنوبی افریقہ کے کپتان ایڈن مارکرم کا کہنا تھا کہ ’مجھے بہت خوشی ہے کہ ہم فائنل میں پہنچ گئے، یہاں تک پہنچنے کے لیے صرف کپتان نہیں بلکہ پورے اسکواڈ کی محنت ہوتی ہے, ہمیں خوشی ہے کہ چیمپئن بننے کے لیے ہمیں ایک اور موقع ملا ہے‘۔
ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔