’فیک نیوز‘ پھیلانے پر 3 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا: متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کیا ہے؟

اقرا حسین
08:56, 24/01/2025, جمعہا: اپ ڈیٹ: 19:38, 24/01/2025, جمعہ
’فیک نیوز‘ پھیلانے پر 3 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی سزا: متنازع پیکا ایکٹ ترمیمی بل 2025 کیا ہے؟
اے آئی فائل
یہ متنازع بل تئیس جنوری کو قومی اسمبلی سے منظور ہوا

سیاسی جماعتوں کے اراکین اور ڈیجیٹل رائٹس ایکٹوسٹ نے بھی اس بل پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

قومی اسمبلی نے متنازع پیکا ایکٹ ترمیم بل 2025 منظور کر لیا، جس کے مطابق جو شخص سول میڈیا پر ’فیک نیوز‘ پھیلانے میں ملوث پایا گیا اسے 3 سال قید یا 20 لاکھ روپے تک جرمانے یا دونوں سزائیں دی جا سکیں گی۔

یہ بل تئیس جنوری کو وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار رانا تنویر حسین کی طرف سے پیش کرنے کے چند منٹ بعد منظور ہو گیا، کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے پہلے ہی واک آؤٹ کر لیا تھا۔ جبکہ صحافیوں نے بھی اجلاس کا بائیکاٹ کرلیا تھا۔

قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ یہ بل پروفیشنل صحافیوں کے خلاف نہیں بلکہ فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف ہے۔

یاد رہے کہ صحافتی تنظیموں نے جیسا کہ پی ایف یو جے، الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کی ایسوسی ایشن، آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز اور پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن نے اس بل میں کی جانے والی ترامیم کو مسترد کر دیا تھا۔

جبکہ سیاسی جماعتوں کے اراکین اور ڈیجیٹل رائٹس پر کام کرنے والی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے سیکریٹری جنرل ارشد انصاری کہتے ہیں کہ صحافی ان تبدیلیوں کو عدالت میں چیلنج کریں گے اور احتجاج کرنے کے علاوہ اسمبلی سیشنز کا بائیکاٹ بھی کریں گے۔

اس بل کے خلاف احتجاج کیوں کیا جارہا ہے، یہ جاننے کے لیے پہلے دیکھتے ہیں کہ اس متنازع بل میں حکومت نے کیا تجاویز دی ہیں؟َ


متنازع پیکا ترمیمی بل 2025 کیا ہے؟

قومی اسمبلی سے منظور ہونے والے اس بِل کو ’دی پریوینشن آف الیکٹرنک کرائمز (ترمیمی) بل 2025‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس بل میں کچھ اہم ترمیم کی بات کریں تو وہ یہ ہیں:

ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی کا قیام:

اس بل میں سوشل میڈیا پروٹیکشن اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی تجویز دی گئی ہے جو 9 ممبران پر مشتمل اتھارٹی ہوگی۔ اس اتھارٹی کی کچھ ذمہ داریاں ہوں گی جن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی ریگولیشن، کون سا مواد سوشل میڈیا پر جاسکتا ہے اور کون سا نہیں جاسکتا، اس کا فیصلہ اتھارٹی کرے گی۔

سوشل میڈیا شکایت سیل کا قیام:

اس بل میں سوشل میڈیا شکایت سیل کے قیام کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ شکایت سیل ان افراد کی شکایات سننے کے لیے بنائی جائے گی جو سمجھتے ہیں کہ آن لائن مواد سائبر کرائم قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

یہ کونسل پانچ ممبرز بھی مشتمل ہوگی جنہیں مقرر کرنا وفاقی حکومت کے ذمے ہوگا۔

سوشل میڈیا پروٹیکشن ٹربیونل کی تشکیل:

بل میں آن لائن مواد سے متعلق مقدمات کو سننے کے لیے ایک ٹریبونل کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جس میں 90 دنوں کے اندر مقدمات کو نمٹانا ہوں گے۔ اس ٹریبونل کے ممبرز کو مقرر کرنا اور انہیں ہٹانا بھی وفاقی حکومت کے ذمے ہوگا۔

’فیک نیوز‘ پھیلانے والوں کے خلاف سزائیں:

اس بِل کے ذریعے پیکا ایکٹ میں ایک نئی شق، سیکشن 26 (اے) کو شامل کیا گیا ہے جو آن لائن فیک نیوز پھیلانے والوں کے خلاف سزا سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ جو کوئی جان بوجھ کر (فیک نیوز) پھیلاتا ہے جو عوام اور معاشرے میں ڈر، گھبراہٹ یا خرابی کا باعث بنے اس شخص کو تین سال تک قید یا 20 لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جائیں گی۔

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا قیام:

اس بل میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سائبر کرائم ونگ کو تحلیل کرنے اور اس کی ذمہ داریاں نئی ​​قائم کردہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ اس بل سے سوشل میڈیا پر فیک نیوز روکنے میں مدد ملے گی لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوگا؟


بل میں کون سی خامیاں ہیں جن کی وضاحت نہیں کی گئی؟

عمر چیمہ نے ینی شفق سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بل میں وضاحت کی کمی ہے۔ عام طور پر جب قومی اسمبلی میں کوئی بل پیش کیا جاتا ہے تو اس کو غور کے لیے اسٹینڈنگ کمیٹی کے پاس بھیجا جاتا ہے اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جاتی ہے، مگر اس بل میں ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’بل میں بہت سے الفاظ مبہم ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس کا مقصد فیک نیوز کے خلاف لڑنا نہیں بلکہ ان افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو حکومت یا دفاعی اداروں کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ایک واضح تعین ہونا چاہیے کہ ہم قانون کی کس خلاف ورزی کے بارے میں بات کر رہے ہیں، مگر اس بل میں یہ وضاحت غائب ہے۔‘

عمر چیمہ نے یہ بھی کہا کہ ’جب بل میں 'فیک نیوز' کی تعریف ہی موجود نہیں، تو اس کی تشریح کا اختیار حکام کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے، اور وہ خود فیصلہ کرتے ہیں کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔‘

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’بل میں فیک نیوز پھیلانے والوں کو تین سال قید کی سزا دینے کی تجویز کی گئی ہے۔ حکومت کو اسے کرمنل جرم کے طور پر نہیں بلکہ سول جرم کے طور پر لینا چاہیے۔ اگر کوئی فیک نیوز پھیلا رہا ہے تو اسے جیل بھیجنے کے بجائے جرمانہ عائد کیا جائے یا دو تین بار نوٹسز دے کر اس کے سوشل میڈیا اکاوٴنٹس بلاک کردیے جائیں۔‘

وکیل اور انسانی حقوق کی کارکن اور تجزیہ کار ریما عمر نے ایک مقامی نجی ٹی وی پروگرام میں کہا کہ ’اس بل میں ترمیم کرکے چار اتھارٹیز قائم کی گئی ہیں، لیکن ان اتھارٹیز میں عدالتی عمل دخل نظر نہیں آ رہا۔

انہوں نے کہا کہ ’اتھارٹیز کو بہت زیادہ اختیارات دے دیے گئے ہیں اور سوال یہ ہے کہ اتھارٹیز کس طرح آزادانہ طور پر فیصلہ کریں گی کہ کون سا مواد فیک ہے اور کون سا نہیں؟ بل میں اس عمل کی سکروٹنی کا عنصر غائب ہے، جس سے شفافیت اور انصاف کے عمل پر سوالات اٹھتے ہیں‘۔


’کیا گارنٹی ہے کہ اتھارٹیز کے سرکاری ممبران آزادانہ فیصلہ کریں گے؟‘

صحافی اور تجزیہ کار شہزاد اقبال کہتے ہیں کہ ’اس بل میں کہا گیا ہے کہ اس مواد کو غیر قانونی تصور کیا جائے گا جو عوامی جذبات کو ابھارنے کے زمرے میں آتا ہو۔ تو، خداناخواستہ اگر کہیں دھماکہ ہوتا ہے اور کوئی صحافی یہ بات کرتا ہے کہ یہ اداروں اور ایجنسیوں کی سیکیورٹی کی ناکامی ہے، تو کیا اس مواد کو نیشنل سیکیورٹی کے خلاف لوگوں کے جذبات ابھارنے کے زمرے میں شمار کیا جائے گا؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’اس بل میں جن اداروں کی تشکیل کی تجویز دی گئی ہے، ان میں تمام ممبران سرکاری ہوں گے۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ سرکاری ممبران آزادانہ طریقے فیصلہ کریں گے؟ یا پھر اس کا استعمال صرف سیاسی مخالفین کے خلاف کیا جائے گا؟‘


صحافتی تنظیموں کا ملک گیر احتجاج اور بل عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان

صحافتی تنظیموں نے بل کو مسترد کرتے ہوئے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ا یکشن کمیٹی نے اپنے اعلامیہ میں کہا کہ حکومت نے مشاورت کے بغیر متنازع بل منظور کرکے وعدہ خلافی کی ہے۔ بل کو پہلے اسٹیک ہولڈرز کے سامنے پیش کرنے کا کہا گیا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پیکا ایکٹ ترمیمی کا مقصد صرف سوشل میڈیا کو ہی نہیں بلکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بھی ہدف بنانا ہے، اور اس کا مقصد اختلاف رائے کو جرم قرار دینا ہے۔

صحافی تنظیموں کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ ترمیمی بل کو چیلنج کرنے کیلیے وکلا سے مشاورت شروع کر دی گئی اور جلد عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل کا بل کو واپس لینے کا مطالبہ

ینی شفق نے جب ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ترجمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے پاکستان میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) میں کی گئی نئی ترامیم پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ ترامیم دونوں ایوانوں سے منظور ہو گئیں، تو پاکستان میں پہلے سے ہی محدود ڈیجیٹل آزادی کو مزید نقصان پہنچے گا۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا کہ ’نئی ترامیم کے مطابق اگر کوئی شخص ایسی معلومات شیئر کرے جو جھوٹی یا جعلی سمجھی جائے، تو اسے تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ قانون میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ’جھوٹی‘ یا ’فیک‘ معلومات کی تعریف کیا ہے۔ اسی لیے خدشہ ہے کہ حکومت اس قانون کو اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے یہ بھی کہا کہ ’ان ترامیم کے تحت ایک نئی اتھارٹی بنائی گئی ہے جسے یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی بھی آن لائن مواد کو بلاک یا ڈیلیٹ کر سکے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس اتھارٹی کو یہ فیصلے کرنے کے لیے جو معیارات یا اصول دیے گئے ہیں، وہ مبہم اور غیر واضح ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس بل کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور اس کے بجائے عوامی اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مشورہ کرے۔



یہ بھی پڑھیں:
تکنیکی مسئلہ یا کچھ اور؟ پاکستانی صارفین کو سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے میں دشواری
تازہ ترین
تکنیکی مسئلہ یا کچھ اور؟ پاکستانی صارفین کو سوشل میڈیا ایپس استعمال کرنے میں دشواری
پاکستان میں سوشل میڈیا ایپس تک صارفین کی محدود رسائی کی شکایات لیکن حکومت کا ’سب اچھا ہے‘ کا دعویٰ
تازہ ترین
پاکستان میں سوشل میڈیا ایپس تک صارفین کی محدود رسائی کی شکایات لیکن حکومت کا ’سب اچھا ہے‘ کا دعویٰ
ڈیجیٹل نیشن بل متعارف کرنے کی تیاری، ’انٹرنیٹ چل نہیں رہا ملک کو ڈیجیٹلائز کیسے کریں گے؟‘
تازہ ترین
ڈیجیٹل نیشن بل متعارف کرنے کی تیاری، ’انٹرنیٹ چل نہیں رہا ملک کو ڈیجیٹلائز کیسے کریں گے؟‘

تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026