فرانس میں مہنگائی کے خلاف پُرتشدد احتجاج، مزید علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا امکان
12:52, 20/10/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 12:56, 20/10/2026, منگل
ویب ڈیسک

تصویر: اے ایف پی
احتجاجی مظاہروں کے باعث ہونے والی بدامنی کے دوران 2,513 افراد کو حراست میں لیا گیافرانس کے وزیراعظم سبیسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ ’مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات کے بعد مزید علاقوں میں کرفیو نافذ کیا جا سکتا ہے۔‘
فرانس کے وزیراعظم سبیسٹین لیکورنو نے کہا ہے کہ ’مہنگائی کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات کے بعد مزید علاقوں میں کرفیو نافذ کیا جا سکتا ہے۔‘
سبیسٹین لیکورنو نے منگل کو امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ’مخصوص علاقوں میں کرفیو سے رات کے وقت صورت حال پُرسکون رکھنے میں مدد ملی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں ضرورت ہوئی، وہاں منگل کی شام مزید پابندیوں کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق کرفیو سے متعلق فیصلے مقامی سطح پر حکام کے ساتھ مشاورت سے کریں گے۔
پیر کی رات پیرس اور لیون سمیت مختلف علاقوں میں جزوی کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔ پولیس اور جینڈرمیری کے ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر رات کے وقت صورت حال پُرامن رہی جبکہ جزیرے مارٹینیک میں مظاہروں کے دوران بعض واقعات پیش آئے۔
وزیر انصاف جیرالڈ دارماناں نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے باعث ہونے والی بدامنی کے دوران 2,513 افراد کو حراست میں لیا گیا، 67 افراد کو جیل بھیجا گیا جبکہ درجنوں کے خلاف عدالتی تحقیقات شروع کی گئیں۔
سی نیوز۔یورپ ون سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر انصاف جیرالڈ دارماناں نے ہنگامی حالت نافذ کرنے کی ضرورت کو مسترد کردیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری آبادی کی انفرادی آزادیوں پر پابندیاں عائد کیے بغیر سخت اقدامات کے ذریعے امن و امان بحال کیا جا سکتا ہے۔

فرانس میں پُرتشدد مظاہروں کے دوران پولیس مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کر رہی ہے
دوسری جانب قومی اسمبلی کی صدر یائل برون پیویے نے حکومت پر زور دیا کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر توجہ دے۔ انہوں نے کہا کہ ’لاکھوں افراد نے پُرامن مظاہروں میں شرکت کی تھی۔‘
کاروباری تنظیم میڈیف کے صدر پیٹرک مارٹن نے الزام عائد کیا کہ ریاست امن و امان برقرار رکھنے میں ناکام رہی۔ انہوں نے حکومت کے ابتدائی اندازوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کم از کم 3,000 کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔
وزیر معیشت رولان لیسکیور نے کہا کہ متاثرہ تاجروں اور کاروباری افراد کے لیے امدادی اقدامات کا اعلان کیا جائے گا تاکہ وہ جلد اپنے کاروبار دوبارہ شروع کر سکیں۔
ادھر یلو ویسٹ تحریک کے ایک رابطہ گروپ نے 24 اکتوبر کو ایک اور احتجاجی مظاہرے کی کال دی ہے۔
