جرمنی کا 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا فیصلہ
11:33, 15/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 12:48, 15/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

تصویر: پیگزل
جرمنی کی کابینہ نے بدھ کے روز بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے نئی پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دے دی ہے۔
جرمنی کی کابینہ نے بدھ کے روز بچوں اور نوجوانوں کو آن لائن خطرات سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کے لیے نئی پالیسی گائیڈ لائنز کی منظوری دے دی ہے۔
جس میں 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر قومی سطح پر پابندی شامل ہے، جبکہ یہ پابندی یورپی یونین کے قوانین کے نفاذ تک برقرار رہے گی۔
نئے منصوبے کا مقصد بچوں کو آن لائن خطرات سے بچانا، ڈیجیٹل ٹولز کے محفوظ استعمال کی صلاحیت پیدا کرنا اور ڈیجیٹل دنیا میں ان کی محفوظ شرکت کو یقینی بنانا ہے۔
یہ فیصلہ ایک آزاد ماہر کمیشن کی حتمی رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے جس میں گزشتہ ماہ 56 سفارشات پیش کی تھیں۔
جرمنی کی وفاقی وزیر برائے تعلیم اور خاندانی امور کارن پرین نے ایک بیان میں کہا کہ ’تجزیہ مکمل ہو چکاہے اب عملدرآمد کا وقت ہے، اس نئے فریم ورک کے ذریعے وفاقی حکومت اس بات کی بنیاد رکھ رہی ہے کہ بچے اور نوجوان ڈیجیٹل دنیا میں بھی محفوظ اور خودمختار طریقے سے پروان چڑھ سکیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’ بچوں کا تحفظ، انہیں بااختیار بنانا اور شمولیت، یہ ہمارا مینڈیٹ ہے۔ انٹرنیٹ خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے، اسی لیے ہم انہیں ڈیجیٹل دنیا سے باہر نہیں رکھنا چاہتے، بلکہ انہیں مضبوط اور محفوظ بنانا چاہتے ہیں۔‘
نئے قوانین کے تحت ’13 سال سے کم عمر کے بچوں کو ٹک ٹاک، سناپ چیٹ یا انسٹاگرام جیسے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر عام طور پر پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔صرف ان پلیٹ فارمز کی اجازت ہوگی جو واضح طور پر بچوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔‘
13 سے 18 سال کے نوجوانوں کے لیے عمر کے لحاظ سے مختلف حدود مقرر کی جائیں گی،جبکہ حکومت 2027 سے عمر کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹل شناختی نظام ’ڈی- یو‘ متعارف کرانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے۔
جرمنی یورپی یونین کے کڈز ایکٹ کے مذاکرات میں اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ’سوشل میڈیا اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو بائی ڈیفالٹ ایسے ڈیزائنز ختم کرنا ہوں گے جو اسکرولنگ یا زبردستی استعمال کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔‘