برطانیہ: جیلوں میں جگہ کی کمی کے باعث سینکڑوں قیدیوں کی قبل از وقت رہائی
15:19, 01/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 16:35, 01/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

Gettyimages
فائل فوٹوانگلینڈ اور ویلز میں سینکڑوں قیدی جیلوں سے رہا ہونے والے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے قیدیوں کی قبل از وقت رہائی کرنے کی سکیم جمعرات کو نافذ العمل ہو گئی ہے۔
یہ اسکیم 2024 میں جیلوں میں گنجائش تقریباً ختم ہونے کے بعد متعارف کرائی گئی تھی، جب 100 سے بھی کم جگہیں باقی رہ گئی تھیں۔
نئے قوانین کے تحت 19 ماہ تک کی سزا کاٹنے والے مجرم اپنی سزا کا ایک تہائی حصہ مکمل کرنے کے بعد رہا کیے جا سکتے ہیں۔
حکومت کو اس منصوبے پر تنقید کا سامنا ہے، مرکزی اپوزیشن ‘کنزرویٹو پارٹی’ نے خبردار کیا ہے کہ قبل از وقت رہائی کے اس سکیم کے تحت خطرناک مجرموں کو رہا کیا جا سکتا ہے۔
برطانوی وزیرِ خزانہ جیمز مرے نے نشریاتی ادارے اسکائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘میرے خیال میں جس چیز سے عوام کی حفاظت کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہو سکتا ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ایسے لوگوں کو رکھنے کے لیے جیلوں میں گنجائش ہی نہ رہے جنہیں آج جرائم کے شبہ میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔’
برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم کے دفتر نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ ‘موجودہ حکومت کے تحت 3,200 سے زائد نئی جیل کی جگہیں تعمیر کی جا چکی ہیں، جبکہ 2031 تک 14,000 نئی جگہوں کی توقع ہے، جو وکٹورین دور کے بعد سب سے بڑی جیل توسیع ہوگی۔’
واضح رہے کہ مارچ تک 2024 میں متعارف کرائی گئی قبل از وقت رہائی اسکیم کے تحت 70,000 سے زائد افراد کو رہا کیا جا چکا ہے۔