صومالی قزاقوں کے قبضے سے 5 ماہ بعد پاکستانیوں سمیت تیل بردار جہاز بازیاب
16:55, 30/09/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 17:07, 30/09/2026, بدھ
ویب ڈیسک

انصار برنی ٹرسٹ
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال پاکستانی ملاح۔ فائل فوٹو
صومالیہ کی میری ٹائم پولیس نے منگل کو کہا ہے کہ اس نے تیل بردار جہاز ایم ٹی آنر 25 کو بازیاب کرا لیا ہے، جسے 21 اپریل کو پنٹ لینڈ کے ساحل کے قریب مسلح افراد نے اغوا کیا تھا، جس میں عملے کے 19 ارکان سوار تھے، جن میں 10 پاکستانی بھی شامل تھے۔
پنٹ لینڈ میری ٹائم پولیس فورس نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ بحری اور زمینی دستوں نے ضلع بندر بیلا کے علاقے دھارین بار میں منصوبہ بند کارروائی کی، جس کے بعد جہاز اب محفوظ اور حکومت کے کنٹرول میں ہے۔
بیان کے مطابق کارروائی کے دوران 21 مشتبہ بحری قزاقوں کو حراست میں لیا گیا، جبکہ باقیوں کا سراغ لگانے کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران بحری قزاقوں نے عملے کے 5 افراد کو قتل کر دیا، جن میں 3 پاکستانی، ایک میانمار اور ایک انڈیا کا شہری شامل ہے، جبکہ 4 افراد زخمی ہوئے جن میں 3 پاکستانی اور ایک انڈین شامل ہے۔
برطانیہ کی نیوز ایجنسی رائٹرز نے اس سے قبل پنٹ لینڈ کے سرکاری ٹیلی ویژن کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ حراست میں لیے گئے بحری قزاقوں کو عدالت میں پیش کیا جائے گا جبکہ کسی بھی سرکاری ذریعے سے اس آپریشن کے بارے میں مزید تفصیلات دستیاب نہیں تھیں۔
واضح رہے کہ اغوا کے بعد سے عملے نے کئی جذباتی ویڈیوز اور آڈیو پیغامات کے ذریعے اپیل جاری کیں جن میں بتایا گیا کہ ان کے پاس صاف پانی، خوراک اور ادویات ختم ہو چکی ہیں۔
بحری قزاقوں نے انصار برنی ٹرسٹ کے چیئر مین ‘انصار برنی’ سے بھی رابطہ کیا تھا جنہوں نے اس معاملے کو حل کرنے میں مدد کی کوشش بھی کی تھی، وہ اس سے قبل صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے پاکستانیوں کی رہائی کی کوششوں میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔
گزشتہ ماہ پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن کے سربراہ سے ملاقات میں پاکستانی ملاحوں کی واپسی کے لیے فوری اور موثر اقدامات کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
منگل کے آپریشن کے بعد ‘انصار برنی ٹرسٹ ‘ نے ایک بیان میں کہا کہ بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن نے زخمیوں اور لاشوں کی واپسی میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
یاد رہے کہ اپریل سے اب تک صومالی ساحل پر قزاقی کے کم از کم پندرہ حملے ہو چکے ہیں، جو 2013 کے بعد سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں بحری قزاقی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے، جو بین الاقوامی تجارتی راستوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
