انگلینڈ اور ارجنٹینا کی تاریخی رقابت اور 'انتقام'؛ فیفا ورلڈ کپ کا دوسرا سیمی فائنل کیوں انتہائی دلچسپ ہوگا؟
16:35, 14/07/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 16:35, 14/07/2026, منگل
ویب ڈیسک

فائل فوٹو
فٹ بال کے میدانوں میں انگلینڈ اور ارجنٹینا کی رقابت ہمیشہ سے ایک دلچسپ مقابلے کو جنم دیتی آئی ہے اور 16 جولائی کو یہ دونوں ٹیمیں ایک بار پھر فیفا ورلڈ کپ میں آمنے سامنے ہوں گے۔ لیکن یہ پہلی بار ہے کہ دونوں ٹیمیں سیمی فائنل میں ٹکرائیں گی۔
یہ کوئی عام میچ نہیں بلکہ انڈیا اور پاکستان کے کرکٹ میچ جیسا ہے۔ یا شاید اس سے بھی زیادہ دلچسپ۔ انگلینڈ اور ارجنٹینا کا سیمی فائنل دونوں کی کئی دہائیوں پر محیط تاریخی رقابت کو تازہ کر دے گا۔
رواں ہفتے ارجنٹینا کے سابق فٹ بالر انتونیو راٹین کا انتقال ہوا ہے۔ ان کی موت نے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے ابتدائی اور متنازع مقابلوں کی یادیں تازہ کر دی ہیں۔
1966: پہلا بڑا تنازع
دونوں ٹیموں کے درمیان رقابت کی جڑیں تو تاریخی اور فٹ بال مقابلوں سے پہلے کی ہیں جن کے کئی سیاسی و ثقافتی پہلو ہیں۔ لیکن پہلا بڑا تنازع 1966 کے ورلڈ کپ میں ہوا تھا جس نے دونوں ملکوں کو ایک روایتی حریف میں بدل دیا۔
1966 کے ورلڈ کپ میں، جس کی میزبانی انگلینڈ کر رہا تھا، دونوں ٹیمیں کوارٹر فائنل میں مدمقابل آئی تھیں۔ اس وقت ارجنٹینا کے کپتان انتونیو راٹین کو میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔
میدان چھوڑتے ہوئے انہوں نے برطانوی پرچم والے کارنر فلیگ کو پکڑ لیا اور پھر ملکہ الزبتھ کے لیے بچھائے گئے سرخ قالین پر بیٹھ گئے اور وہاں سے اٹھنے سے انکار کرتے رہے۔ راٹین کے مطابق انگلش شائقین نے ان پر بیئر کے کین بھی پھینکے تھے۔

میچ کے دوران دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کے درمیان شدید کشیدگی رہی۔ تاہم انگلینڈ نے ایک صفر سے کامیابی حاصل کی۔ اس میچ کے بعد انگلینڈ کے کوچ الف ریمزی نے ارجنٹائنی کھلاڑیوں کو 'جانور' کہہ دیا تھا۔ یہ ایک ایسا بیان تھا جسے ارجنٹینا نے اپنی ہتک کے طور پر لیا اور آج تک نہیں بھولا۔
1986: 'ہینڈ آف گاڈ' اور جنگ کا بدلہ
بیس سال بعد میکسیکو سٹی میں دونوں ٹیمیں دوبارہ ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں ٹکرائیں۔
اس سے صرف چار سال قبل 1982 میں دونوں ممالک کے درمیان فاک لینڈ/مالویناس جزائر پر ایک جنگ ہوئی تھی جس میں 649 ارجنٹائنی اور 255 برطانوی فوجی مارے گئے تھے۔ اس جنگ کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے کہ یہ کوارٹر فائنل آ گیا۔
اس میچ میں لیجنڈری فٹ بالر ڈیاگو میراڈونا نے دو گول کیے اور ارجنٹینا کو سیمی فائنل میں پہنچا دیا۔
ان کا دوسرا گول تاریخ کے خوب صورت ترین گولز میں شمار ہوتا ہے۔ جب میراڈونا نے آدھی انگلش ٹیم کو ڈاج دیتے ہوئے گیند جال میں پہنچائی تھی۔
پہلا گول ہاتھ سے کیا گیا تھا جو بعد میں 'ہینڈ آف گاڈ' کے نام سے مشہور ہوا۔ اگر اس دور میں وی اے آر (VAR) کی سہولت موجود ہوتی تو یہ گول یقینی طور پر مسترد کر دیا جاتا۔

تاہم میراڈونا اور بہت سے ارجنٹائنیوں کے نزدیک یہ دھوکا نہیں بلکہ طاقت ور کے خلاف کمزور کی فتح تھی۔
میراڈونا نے اپنی سوانح عمری 'ایل ڈیاگو' میں لکھا 'یہ صرف ایک فٹ بال ٹیم کو نہیں بلکہ ایک ملک کو شکست دینا تھا۔ اگرچہ ہم نے کہا تھا کہ فٹ بال کا مالویناس جنگ سے کوئی تعلق نہیں لیکن ہمیں معلوم تھا کہ وہاں بہت سے ارجنٹائنی نوجوان مارے گئے تھے۔ یہ ان کا بدلہ تھا۔'
1998 اور اس کے بعد
1986 کے بعد دونوں ٹیمیں 1998 کے ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں دوبارہ ٹکرائیں جہاں انگلینڈ کے اسٹار کھلاڑی ڈیوڈ بیکھم کو ریڈ کارڈ ملا اور ارجنٹینا نے پنالٹی شوٹ آؤٹ میں کامیابی حاصل کی۔
چار سال بعد 2002 کے ورلڈ کپ میں بیکھم ہی کے گول کی بدولت انگلینڈ نے گروپ مرحلے میں ارجنٹینا کو شکست دی۔ یہ دونوں ٹیموں کی آخری ورلڈ کپ ملاقات تھی۔
آج کی رقابت
انگلینڈ کی موجودہ ٹیم کے کھلاڑیوں نے اس تاریخی رقابت پر کوئی خاص تبصرہ نہیں کیا جب کہ ارجنٹائنی کھلاڑی بھی عوامی سطح پر اس موضوع کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ماہرین کے مطابق یورپ میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے دونوں ممالک کے درمیان پرانی تلخی کو کسی حد تک کم کیا ہے۔
ارجنٹینا کے کوچ لیونل اسکالونی نے سوئٹزرلینڈ کو شکست دینے کے بعد کہا 'یہ صرف ایک فٹ بال میچ ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہمیں اس میں کوئی اور معنی تلاش نہیں کرنے چاہئیں۔'
تاہم میچ کے بعد ارجنٹائنی کھلاڑی اپنے مداحوں کے ساتھ ایک مشہور نعرہ لگاتے رہے کہ 'اگر تم نہیں اچھلتے، تو تم انگریز ہو۔'بعد ازاں سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں کھلاڑی ایک نیا نغمہ بھی گاتے نظر آئے جس میں 1994 کے ورلڈ کپ میں ڈیاگو میراڈونا کی ڈوپنگ ٹیسٹ میں ناکامی کے بعد ٹورنامنٹ سے اخراج کو 'چوری شدہ ورلڈ کپ' قرار دیتے ہوئے بدلہ لینے کی بات کی گئی۔
گانے کے بول میں کہا گیا ہے کہ 'یہ فتح مالویناس کے لیے، ڈیاگو کے لیے اور لیو (میسی) کے آخری ورلڈ کپ کے لیے ہوگی۔'

ارجنٹینا کے مڈفیلڈر روڈریگو ڈی پال نے کہا ہے کہ 'یقیناً اس مقابلے کی بہت اہمیت ہے اور یہ ڈیاگو میراڈونا اور اس وقت کے واقعات کی یاد دلاتا ہے۔ لیکن ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ ایک فٹ بال میچ ہے۔ سب سے بڑھ کر ہماری خواہش صرف یہ ہے کہ ہم یہ میچ جیت کر فائنل میں پہنچیں۔'