افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنا پاکستان میں دہشت گرد حملوں کو بڑھا رہا ہے: اقوام متحدہ

17:46, 13/08/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 17:46, 13/08/2026, جمعرات
افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنا پاکستان میں دہشت گرد حملوں کو بڑھا رہا ہے: اقوام متحدہ
افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو سپورٹ کرنا پاکستان میں دہشت گرد حملوں کو بڑھا رہا ہے: اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نگراں ٹیم کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو مسلسل حمایت ملنے کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 16 دسمبر2025 سے نوجون 2026 تک کے عرصے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ پاکستان میں ٹی ٹی پی کے بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ طالبان حکام ٹی ٹی پی کی حمایت کرتے رہے، جس کے نتیجے میں پاکستان پرحملوں میں اضافہ اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپیں ہوئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ افغان طالبان نے ٹی ٹی پی کو محدود کرنے کے لیے کچھ ابتدائی اقدامات بھی کیے۔ جن میں تقریباً دو ہزار ٹی ٹی پی جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو پاکستانی سرحد سے دور افغانستان کے اندرونی علاقوں میں منتقل کیا گیا۔ طالبان سربراہ بیت اللہ آخوندزادہ نے بھی مبینہ طور پر پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے ٹی ٹی پی قیادت کو پاکستان پر حملے روکنے کا کہا ہے۔

تاہم اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنا اور یہ اس سے تعلق ختم کرنے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق 16 فروری کو باجوڑ میں ایک گاڑی میں نصب بم کے حملے میں 11 سیکیورٹی اہلکاراور ایک بچہ ہلاک ہوئے جبکہ دیگر زخمی ہوئے تھے۔ ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ گروپ مبینہ طور پر افغانستان سے کام کر رہا تھا۔

رپورٹ میں ٹی ٹی پی، داعش اور بلوچ لبریشن آرمی کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ القائدہ نے اپریل میں پہلی مرتبہ ٹی ٹی پی کی پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی براہ راست حمایت کی۔

ایک رکن کے مطابق افغانستان میں القاعدہ کے تربیت کاروں نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو ایک ساتھ تربیت دی۔

اقوام متحدہ نے داعش خراسان کو خطے کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا اور کہا کہ داعش نے اپنی کارروائیوں کا مرکز شمالی افغانستان کی جانب منتقل کیا اور پاکستان، افغانستان میں اپنے نیٹ ورک پھیلائے۔

رپورٹ میں چھ فروری کو اسلام آباد کی خدییجہ الکبریٰ مسجد میں نمازجمعہ کے دوران ہونے والے خودکش حملے کا بھی ذکر کیا گیا۔

جس میں 32 افراد ہلاک اور 150 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کے مطابق حملے کی ذمہ داری داعش کے ایک گروپ نے قبول کی تھی۔

تبصرے
Avatar

ہماری سائٹ پر آپ کے تبصرے دیگر صارفین کے لیے ایک قیمتی وسیلہ ہیں۔ براہ کرم مختلف آرا اور دوسرے صارفین کا احترام کریں۔ بدتہذیبی، جارحانہ، تضحیک آمیز یا امتیازی زبان کے استعمال سے گریز کریں۔