ایرانی فوٹو جرنلسٹ یلدا معیری کو تصاویر بنانے پر 15 سال قید کی سزا
12:26, 13/08/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 14:09, 13/08/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

AFP
یلدا معیری 2023 میں بینک آف امریکہ ٹاور میں انٹرنیشنل ویمنز میڈیا فاؤنڈیشن کے ’’کوریج اِن جرنلزم ایوارڈز‘‘ کی تقریب میں اسٹیج پر خطاب کرتے ہوئے۔معروف ایرانی صحافی یلدا معیری کو تصاویر بنانے اور غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کے الزامات میں 15 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔
یلدا معیری نے بتایا کہ تہران کی عدالت پہنچنے پر انہیں مقدمے کی باقاعدہ دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔
ان کے ساتھ موجود دوست نے چارج شیٹ کی تفصیلات بھی ہاتھ سے تحریر کیں۔اس دستاویز کے مطابق ان پر حکومت کے مخالف قرار دیے جانے والے میڈیا اداروں کو انٹرویوز دینے اور امریکا و اسرائیل سے منسلک اداروں کو تصاویر فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یلدا معیری کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس اہلکاروں نے حکومت مخالف احتجاج کے دوران ان کے گھر پر چھاپہ مار کر ان کے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر سامان قبضے میں لے لیا۔
بعد ازاں امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد اہلکاروں نے دوبارہ ان کے گھر چھاپہ مارا اور کیمرے بھی تحویل میں لے لیے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ متعدد بارتفتیش کے بعد مقدمہ سیکیورٹی پراسیکیوٹر کے دفتر اور پھر انقلابی عدالت منتقل کیا گیا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے عبدالرحمان بورومند سینٹر کی ایگزیکٹر رویا بورومند نے کہا کہ مقدمے کی دستاویزات فراہم نہ کرنا مدعا علیہان کو خاموش کرنے کی کوشش ہے اور ایرانی عدالتی نظام کے کردار پر سوال اٹھانا ہے۔
معیری کو2025 کی ایک نئی قانون سازی کے تحت سزا سنائی گئی ہے، جسے ایرانی حکام جاسوسی اور دشمن ریاستوں سے تعاون کے خلاف اقدام قرار دیتے ہیں۔ انہیں فیصلے کے خلاف اپیل کے لیے دس دن کا وقت دیا گیا ہے۔
یہ پہلی بار نہیں کہ یلدا معیری کو صحافتی کام کی وجہ سے قید کا سامنا کرنا پڑا ہو، بلکہ 2022 میں انہیں ایران میں ہونے والے ’خواتین، زندگی، آزادی ‘ احتجاج کی کوریج پر گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی تھی جو بعد میں معافی کے نتیجے میں کم کردی گئی۔
معیری نے اپنے صحافتی سفر کے دوران ایرانی خواتین اور حکومت مخالف مظاہروں کی متعدد اہم تصاویر بنائی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ قید اور مقدمات کے باوجود وہ ایرانی معاشرے کی حقیقی دنیا کے سامنے لانے کا کام جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان سزاؤں نے کبھی انہیں اپنے راستے سے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا اوران کے پاس اب بھی اپنی سچائی اور مشاہدے کی دیانت داری موجود ہے۔