پاکستان نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی، افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ
16:25, 23/07/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 16:31, 23/07/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

فائل فوٹو
دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس حالیہ رپورٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے جس میں افغانستان میں کی گئی پاکستانی فوجی کارروائیوں پر الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ رپورٹ میں لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ ان کے بقول ملک کی طرف سے کوئی بھی فوجی کارروائی بین الاقوامی قانون کے مطابق اور اپنے دفاع کے حق میں کی گئی۔
طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کی تمام کارروائیاں صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور لاجسٹک مراکز کے خلاف تھیں اور ان میں بین الاقوامی اصولوں کا خاص خیال رکھا گیا۔
انہوں نے عالمی برادری اور ایمنسٹی انٹرنیشنل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغان طالبان کی جانب سے دہشت گردوں کو دی جانے والی حمایت کا نوٹس لے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کا پابند بنائے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان کی حکومت دہشت گرد تنظیموں کے لیے موافق ماحول پیدا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق ان گروپس کو افغان سرزمین پر اڈے، فنڈنگ اور تربیت کی آزادی حاصل ہے جس کی وجہ سے وہ سرحد پار پاکستان کے خلاف حملے کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹریشنل نے کل اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے مرکز پر ہونے والے پاکستانی حملے کی تحقیقات جنگی جرم کے طور پر کی جانی چاہئیں کیوں کہ انہیں اس مرکز کے کسی عسکری کارروائی میں استعمال ہونے کے دعوے کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔

پاکستان
کابل کے بحالی مرکز پر پاکستانی حملے کی تحقیقات ممکنہ جنگی جرم کے طور پر کی جائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ