کابل کے بحالی مرکز پر پاکستانی حملے کی تحقیقات ممکنہ جنگی جرم کے طور پر کی جائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ

15:12, 22/07/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 15:13, 22/07/2026, بدھ
ویب ڈیسک
کابل کے بحالی مرکز پر پاکستانی حملے کی تحقیقات ممکنہ جنگی جرم کے طور پر کی جائیں: ایمنسٹی انٹرنیشنل کا مطالبہ
AA
کابل کے بحالی مرکز پر حملے میں ہلاک افراد کی تدفین کی تصویر

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی تازہ رپورٹ میں مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں منشیات کے عادی افراد کے بحالی مرکز پر پاکستانی فضائی حملے کی ممکنہ جنگی جرم کے طور پر تحقیقات ہونی چاہئیں۔

کابل میں 'امید بحالی اور علاج مرکز' پر رواں سال مارچ میں ہونے والے حملے میں اقوامِ متحدہ کے مطابق کم از کم 269 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ پاکستان نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے دہشت گردوں کے زیرِ استعمال آنے والے اسلحہ و بارود اور ہتھیاروں کے ذخیرے کو نشانہ بنایا جب کہ افغان حکام نے اس دعوے کو رد کیا تھا۔

اس حملے کے چار ماہ بعد انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اس پر جامع تحقیقی رپورٹ شائع کی ہے۔ ایمنسٹی نے حملے کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور ممکنہ جنگی جرم قرار دے کر شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جو پاکستانی فوج کے اس دعوے کی تصدیق کرتے ہوں کہ حملے کے وقت بحالی مرکز کو ہتھیاروں کے ذخیرے یا کسی فوجی مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قانون کے تحت صحت کی سہولیات کو حاصل خصوصی تحفظ کی بھی خلاف ورزی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جنوبی ایشیا کے لیے قائم مقام ڈائریکٹر ازابیل لاسی نے کہا کہ امید سنٹر پر حملہ انسانی ہمدردی کے بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے جو ممکنہ طور پر جنگی جرم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ جگہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے طبی مرکز کے طور پر استعمال ہو رہی تھی۔ یہ حملہ پاکستان کی فوجی منصوبہ بندی میں بڑی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے جس کے نتیجے میں شہریوں کی بڑی تعداد جان سے گئی۔

ازابیل لاسی نے مزید کہا کہ پاکستان کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس حملے کی شفاف، جامع، آزاد اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائے اور نتائج عوام کے سامنے لائے۔ انہوں نے اس فیصلہ سازی کے عمل کی خاص طور پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جس کے نتیجے میں اس مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔

حملہ کب ہوا تھا؟

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق کابل کے بحالی مرکز پر حملہ 16 مارچ کو رات کے وقت کیا گیا جس وقت مرکز میں 1000 سے زائد مریض موجود تھے۔

حملے کے بعد افغان طالبان نے ابتدائی طور پر 400 سے زائد ہلاکتوں کا دعویٰ کیا تھا جب کہ اقوامِ متحدہ کے مشن برائے افغانستان نے بعد ازاں کم از کم 269 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہوسکتی ہے کیوں کہ کئی لاشیں سوختہ حالت میں ملی تھیں۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے حملے کے اگلے دن ایکس پر اپنے بیان میں کہا تھا کہ پاکستانی فوج نے کابل میں دو مقامات پر دہشت گردی کے انفراسٹرکچر اور اسلحہ و بارود کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

بعد ازاں فوج کے ترجمان کی جانب سے بھی ایک انٹرویو میں اسپتال یا طبی مرکز کو نشانہ بنانے کی ترید کی گئی تھی۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026