اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کا نیتن یاہو کے ماتحت کام کرنے کے بجائے مستعفی ہونے کا اعلان
17:15, 21/10/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 11:47, 22/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

AA
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کا نیتن یاہو کے ماتحت کام کرنے کے بجائے مستعفی ہونے کا اعلاناسرائیلی اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ وہ وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کی حکومت میں کسی صورت شامل نہیں ہوں گے اور اگر انہیں نیتن یاہو کے ماتحت کام کرنا پڑا تو وہ ایک گھنٹے کے اندر مستعفی ہو جائیں گے۔
مقامی ریڈیو سٹیشن 103 ایف ایم سے گفتگو کرتے ہوئے گادی آئزنکوٹ نے کہا کہ وہ اقتدار کی شراکت کے ایسے کسی معاہدے کو بھی قبول نہیں کریں گے جس کے تحت نیتن یاہو اور وہ باری باری وزارتِ عظمی کے منصب پر فائز ہوں۔
اسرائیل میں عام انتخابات 27 اکتوبر کو ہونے جا رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق نیتن یاہو کے سیاسی اتحاد اور آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن، دونوں میں سے کسی کی بھی حکومت بنانے کے لیے واضع اکثریت حاصل کرنے کا امکان نہیں۔
اسرائیلی پارلیمان کنیسٹ کی 120 نشتستوں میں سے حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 نشتستیں درکار ہیں۔ ایسی صورت میں قومی اتحاد کی حکومت تشکیل دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ جس میں نیتن یاہو اور آئزنکوٹ باری باری وزارتِ عظمیٰ سنبھال سکتے ہیں۔ اس ممکنہ حکومت میں انتہا پسند جماعت یہودی طاقت (جیوئش پاور) کو شامل نہ کرنے کا تصور بھی زیرِ بحث ہے، جس کی قیادت قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر کرتے ہیں۔
دونوں سیاسی رہنماوں کے پاس فلسطینی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت بنانے کا نظریاتی امکان بھی موجود ہے، تاہم اب تک دونوں نے اس امکان کو مسترد کیا ہے۔ فلسطینی اسرائیل کی ایک کروڑ سے زائد آبادی کا 20 فیصد سے زیادہ ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ گادی آئزنکوٹ نے قطر کو دشمن ریاست قرار دینے کے مطالبے پر فوری مؤقف دینے سے گریز کیا۔ یہ مطالبہ سابق وزیرِاعظم نفتالی بینیٹ نے کیا تھا۔ آئزنکوٹ کا کہنا تھا کہ محض میڈیا انٹرویو میں قطر کو دشمن ریاست قرار دینے کا اعلان کرنا سنجیدہ طرزِعمل نہیں، اس معاملے پر باقاعدہ بحث کی جائے گی۔
اسرائیلی وزرا اور اپوزیشن رہنما قطر پر فلسطینی تنظیم حماس کی حمایت کا الزام عائد کرتے ہیں جبکہ قطر ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔ قطر کا کہنا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے لیے اس کی انسانی امداد اسرائیل اور اقوامِ متحدہ کے ذریعے پہنچائی گئی۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو دسمبر 2022 کے آخر سے اسرائیل کی حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کی حکومت کو اسرائیل کی تاریخ کی انتہائی دائیں بازو کی حکومتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں تین مقدمات میں بدعنوانی، رشوت اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کا بھی سامنا ہے۔