موسم سرما میں غزہ کے بے گھر افراد کے کیمپ سیلاب سے متاثر ہوسکتے ہیں: اقوامِ متحدہ کا انتباہ
12:20, 21/10/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 14:35, 21/10/2026, بدھ
ویب ڈیسک

AFP
اس وقت دستیاب سامان موسم سرما میں پناہ کی ضرورت رکھنے والے تقریباً تین لاکھ خاندانوں میں سے پانچویں حصے سے بھی کم کی جزوی مدد کے لیے کافی ہے۔اقوامِ متحدہ نےمنگل کو خبردار کیا ہے کہ موسمِ سرما قریب آنے کے ساتھ ہی غزہ میں بے گھر فلسطینیوں کو سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ جبکہ فنڈز کی کمی اور امدادی سامان کی ترسیل پر پابندیوں کے باعث امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے نیوز کانفرنس میں ادارے کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (او سی ایچ اے) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں ایسے مقامات کا جائزہ لیا گیا ہے جہاں 650 سے زائد خاندان پناہ لیے ہوئے ہیں۔
ان میں 160 خاندان ایک ایسے نشیبی علاقے میں رہائش پذیر ہیں جو پہلے بارش کا پانی جمع کرنے کے لیے استعمال ہوتا تھا، تاہم اب وہاں بارش اور سیوریج کے پانی سے سیلاب آنے کا خطرہ ہے۔
سٹیفن دوجارک کے مطابق اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے پیر کو خان یونس میں بے گھر افراد کی رہائش کے لیے قائم مزید پانچ نشیبی مقامات کا جائزہ لیا، جہاں تقریباً 750 افراد مقیم ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک چھٹے مقام کا بھی جائزہ لیا گیا ہے جہاں کئی خاندان ایسے پہاڑی کنارے پر خیموں میں رہ رہے ہیں جو ان پانچ نشیبی مقامات کے اوپر واقع ہے۔ اقوام متحدہ کو خدشہ ہے کہ موسم سرما میں مٹی کے کٹاؤ کے باعث خیموں کے نیچے زمین کھسک سکتی ہے۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار غزہ بھر میں نکاسی آب کے راستوں کی صفائی، ریت کی بوریوں کی تنصیب اور زمین کو ہموار کرنے کے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ بے گھر خاندانوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تاہم، فنڈز کی کمی اور متعدد ضروری سامان کی غزہ میں آمد پر پابندیوں کے باعث یہ کوششیں متاثر ہو رہی ہیں۔
غزہ میں اکتوبر 2023 میں امریکا کی حمایت سے شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں اب تک 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک اور ایک لاکھ 75 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ شہری بنیادی ڈھانچے کا 90 فیصد تباہ ہو چکا ہے۔
دس اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے غزہ میں گولہ باری، فائرنگ اور فلسطینیوں کی عمارتوں کو مسمار کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جس سے علاقے میں تباہی مزید بڑھ رہی ہے۔