ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کے 10 سال مکمل، ’66 ملکوں تک آواز پہنچ رہی ہے‘

01:20, 16/10/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 01:27, 16/10/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کے 10 سال مکمل، ’66 ملکوں تک آواز پہنچ رہی ہے‘
ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کے 10 سال مکمل، ’66 ملکوں تک آواز پہنچ رہی ہے‘

ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کے چیئرمین محمود مصطفیٰ اوزدیل ادارے کے قیام کے 10 سال مکمل ہونے کے موقع پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ فاؤنڈیشن کی آواز اب 66 ممالک میں مختلف زبانوں کے ذریعے لوگوں تک پہنچ رہی ہے۔

’بیش تپے ملت‘ لائبریری میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمود مصطفیٰ اوزیدیل نے صدر رجب طیب اردوان اور خاتونِ اول امینہ اردوان کی رہنمائی اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کے چیئرمین نے کہا کہ ’صرف سکول تک رسائی دنیا سے ناانصافی ختم کرنے کے لیے کافی نہیں۔ اس بات پر بھی توجہ دینا ضروری ہے کہ بچوں کو اپنی ثقافت، قومی اقدار اور روحانی روایات کے بارے میں کیا سکھایا جائے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ترقی یافتہ ممالک کو بھی تعلیمی شعبے میں مختلف مسائل کا سامنا ہے، اس لیے سب کو ایک دوسرے سے سیکھنے، تجربات بانٹنے اور مشترکہ طور پر حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔‘

محمود مصطفیٰ اوزدیل کے مطابق 10 سال قبل فاؤنڈیشن نے بین الاقوامی یکجہتی کی بنیاد پر ایک نئی آواز بلند کرنے کا سفر شروع کیا تھا، تاکہ مل کر سیکھنے اور مسائل کے حل کے امکانات کو وسعت دی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ ’ترکیہ کے پاس اس مشترکہ کوشش میں پیش کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔ ملک کو ہزاروں سال سے مختلف زبانوں، عقائد، روایات اور طرزِ زندگی کے باہمی میل جول کا تجربہ حاصل ہے۔‘

محمود مصطفیٰ اوزدیل نے کہا کہ ’فاؤنڈیشن خود کو کسی سے برتر نہیں سمجھتی اور نہ ہی کسی کی بالادستی قبول کرنے کو اپنی مجبوری تصور کرتی ہے۔‘ ان کے مطابق ترکیہ دوسروں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر براہِ راست اور حقیقی تعلقات استوار کرنے کا تجربہ رکھتا ہے۔ انہوں نے جدیدیت کے فوائد، نقصانات اور اس کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’اپنی تہذیب سے دور ہوئے بغیر دنیا کے لیے کھلنا ضروری ہے۔‘

دنیا کے 66 ممالک میں تعلیمی خدمات

انہوں نے بتایا کہ ’فاؤنڈیشن انٹارکٹیکا کے سوا تمام براعظموں میں موجود ہے اور 66 ممالک میں اس کے 600 سے زیادہ تعلیمی ادارے ہیں، جہاں 80 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔‘

محمود مصطفیٰ اوزدیل نے کہا کہ ادارے پر کیے گئے اعتماد اور اسے فراہم کیے گئے مواقع کا جواب تعلیم کا معیار بہتر بنا کر، تعلقات مضبوط کرکے اور مشترکہ تجربات کو فروغ دے کر دیا جانا چاہیے۔

ان کے مطابق اس مقصد کے لیے ایسا مربوط تعلیمی نظام ضروری ہے جس میں سکول، اساتذہ، منتظمین، تعلیمی سہولتیں، خاندان، ٹیکنالوجی، علمی تحقیق اور فارغ التحصیل طلبہ ایک دوسرے کی ترقی میں مسلسل کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’فاؤنڈیشن تین بنیادی شعبوں پر کام کر رہی ہے جن میں تعلیم کے معیار اور گہرائی میں اضافہ، علم کی پیداوار اور علم تک منصفانہ رسائی اور پائیدار بنیادوں پر معیاری ادارہ جاتی ماڈل کی تشکیل شامل ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ باہمی سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے اور بین الاقوامی تعلیمی مباحث میں مؤثر کردار ادا کرنے والا ادارہ بننے کے لیے یہی راستہ اختیار کرنا ہوگا۔‘

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ اب دفاعی صنعت، سفارت کاری، سیاحت اور تجارت کے ساتھ بین الاقوامی تعلیم کے شعبے میں بھی عالمی کردار ادا کر رہا ہے۔

ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کے قیام کے 10 سال مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ ملک نے اپنے تعلیمی وژن کے ذریعے اس شعبے میں ایک نئی سطح حاصل کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں ترکیہ میں زیرِ تعلیم غیر ملکی طلبہ کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ تعداد تقریباً 3 لاکھ 80 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

صدر اردوان نے ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کو بین الاقوامی سطح پر اس تبدیلی کے اہم نمائندوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’ترکیہ کے تعلیمی تجربات اور علم کو دنیا کے مختلف معاشروں کے ساتھ بانٹنا اہم ہے۔‘


تعلیم کے شعبے میں استحصال کے خلاف جدوجہد

ترکیہ معارف فاؤنڈیشن کے چیئرمین محمود مصطفیٰ اوزدیل نے بھی خطاب میں فیتو دہشت گرد تنظیم کے تجربے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن جانتی ہے کہ تعلیم کے مواقع بڑھانے کے لیے کتنی محنت درکار ہوتی ہے اور یہ شعبہ استحصال کا کس قدر شکار ہو سکتا ہے۔

اوزدیل نے کہا کہ انہیں اپنے تجربے سے معلوم ہے کہ تعلیم کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے والے عناصر کس حد تک جا سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ترکیہ معارف فاؤنڈیشن نے اسی پس منظر میں اپنے کام کا آغاز کیا جس کا مقصد تعلیم کو بین الاقوامی یکجہتی کا ذریعہ بنانا، مختلف معاشروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا اور بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے تعاون کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے ان ممالک کے ساتھ حقیقی اور طویل مدتی تعلقات استوار کرنے پر بھی زور دیا جہاں فاؤنڈیشن کام کر رہی ہے۔

اداروں اور عوام سے اظہارِ تشکر

اوزدیل نے ترکیہ کی پارلیمان، وزارتِ قومی تعلیم، وزارتِ خارجہ، سفارت خانوں، سول سوسائٹی کی تنظیموں، اساتذہ، والدین اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے صدر اردوان اور خاتونِ اول امینہ اردوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’10 سال قبل دنیا میں ایک نئی آواز بلند کرنے کے مقصد سے سفر شروع کیا گیا تھا اور آج یہ آواز 66 ممالک میں مختلف زبانوں کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں اور دلوں تک پہنچ رہی ہے۔

اوزدیل نے کہا کہ صدر اور عوام کے اعتماد اور تعاون سے فاؤنڈیشن ایک زیادہ منصفانہ دنیا کے لیے کام جاری رکھے گی، جہاں بچے آزادانہ طور پر اپنی بات کہہ سکیں اور کوئی بھی اپنی آواز سے محروم نہ ہو۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026