ترکیہ کا اسرائیل سے شام میں ’غیر ذمہ دارانہ‘ حملے روکنے کا مطالبہ
13:56, 13/10/2026, منگلا: اپ ڈیٹ: 14:58, 13/10/2026, منگل
ویب ڈیسک

ترکیہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ شام میں فوجی کارروائیاں بند کرے اور 1974 کے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرے۔
ترکیہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ شام میں فوجی کارروائیاں بند کرے اور 1974 کے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرے۔
اقوامِ متحدہ میں ترکیہ کے مستقل مندوب احمد یلدز نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی اس کے استحکام اور معاشی بحالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اسرائیل کی جانب سے قنیطرہ میں نام نہاد ’سوفا 53 لائن‘ کے ساتھ سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنا 1974 کے معاہدے کو کمزور کرنے کی ایک اور کوشش ہے۔‘
ترک مندوب نے اسرائیل سے ان کارروائیوں کو روکنے، 1974 کے معاہدے اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بالخصوص قرارداد 497، پر عمل کرنے اور مقبوضہ علاقوں سے اپنی فوج واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ 'ایک مستحکم، خودمختار اور متحد شام، جو اپنی سرحدوں کی حفاظت، دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے اور علاقائی امن و اقتصادی تعاون میں کردار ادا کرنے کے قابل ہو، اسرائیل سمیت سب کے مفاد میں ہے۔'
شام کے مہاجرین سے متعلق ترک مندوب نے بتایا کہ ’ترکیہ میں عارضی تحفظ کے تحت مقیم شامی شہریوں کی تعداد ایک وقت میں 40 لاکھ سے زیادہ تھی، جو اب کم ہو کر تقریباً 22 لاکھ رہ گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ معاشی حالات، سیکیورٹی خدشات اور اسرائیلی دراندازیوں کے باعث مہاجرین کی واپسی کا عمل بتدریج جاری ہے۔'
8 دسمبر 2024 کو سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اسرائیل نے شام میں اپنی فوجی کارروائیوں کو وسعت دی ہے اور گولان کے بفر زون اور اس کے قریبی علاقوں میں فوج تعینات کی ہے۔
شام کا مطالبہ ہے کہ ’اسرائیلی فوج زیر قبضہ علاقوں سے واپس جائے۔ دمشق نے 1974 کے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا ہے، جبکہ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی فوجی نقل و حرکت سیکیورٹی خدشات کے باعث ہے۔‘
’شامی سرزمین پر شامی شہریوں کو ہلاک نہیں کرنا چاہیے‘
اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں شام کے نمائندے ابراہیم اولابی نے کہا کہ 'سلامتی کے خواہاں ممالک کو شامی سرزمین پر شامی شہریوں کو ہلاک نہیں کرنا چاہیے۔'
ابراہیم اولابی کے مطابق ’جب بھی اسرائیل شام پر حملہ کرتا ہے تو وہ مقامی اور بین الاقوامی سطح پر خود اپنے مفادات کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔‘
شامی نمائندے نے معاشی بحالی، سرمایہ کاری، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور تعمیر نو کے لیے عالمی برادری سے تعاون کی اپیل کی۔
انہوں نے سکولوں، ہسپتالوں، پانی اور بجلی کے نظام کی بحالی کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگوں اور جنگ کی دیگر دھماکا خیز باقیات کو صاف کرنے کے لیے وسائل اور تکنیکی مہارت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔