بنگلہ دیش میں ڈینگی سے اموات کی تعداد 300 تک پہنچ گئی، 1 لاکھ سے زائد لوگ متاثر
16:57, 12/10/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 17:03, 12/10/2026, پیر
ویب ڈیسک

APP
بنگلہ دیش میں رواں سال جنوری سے اب تک ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد303 ہوگئی ہےبنگلہ دیش میں رواں سال جنوری سے اب تک ڈینگی سے ہونے والی اموات کی تعداد 303 تک پہنچ گئی ہے اور تقریباً دو ہزار 200 مریض اب بھی ہسپتالوں میں داخل ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کی ڈائریکوریٹ جنرل آف ہیلتھ سروسز (ڈی جی ایچ ایس) کے مطابق اتوار کو جاری کردہ اعداد و شمار کے بعد ڈینگی کے مجموعی کیسز کی تعداد 99 ہزار 275 تک پہنچ گئی ہے۔
اکتوبر میں اب تک ڈینگی سے 58 اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں، جبکہ ستمبر میں 148 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی مریضوں میں 92 لاکھ 803 افراد صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتالوں سے جاچکے ہیں۔
بنگلہ دیش میں عام طور پر ڈینگی کا موسم جون سے ستمبر تک رہتا ہے۔ تاہم رواں سال گزشتہ سال کے اسی عرصےکے مقابلے میں اس بیماری کے کیسز اور اموات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
ڈی جی ایچ ایس کے مطابق 2025 میں اسی عرصے کے دوران ڈینگی کے 53 ہزار 606 کیسز سامنے آئے تھے، جبکہ 225 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
مچھروں کے کاٹنے سے انسانوں میں ڈینگی ہوتا ہے اور یہ ایک وائرل بیماری ہے، اس کے لیے کوئی مخصوص علاج موجود نہیں ہے۔
جنوبی ایشیائی ملک بنگلہ دیش کی آبادی تقریباً 17 کروڑ 50 لاکھ ہے۔ ملک میں ڈینگی سے سب سے زیادہ سالانہ اموات 2022 میں ریکارڈ کی گئی تھیں، جب 281 افراد اس بیماری کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔
خسرہ جیسی علامات والے مریضوں اور اموات میں بھی اضافہ
دوسری جانب بنگلہ دیش میں صحت کے حکام نے خسرہ جیسی علامات کے باعث مزید سات اموات اور ایک ہزار 200 سے زائد نئے کیسز رپورٹ کیے ہیں۔
حکام کے مطابق مارچ کے وسط سے اب تک خسرہ سے منسلک اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار 162 ہو گئی ہے۔ جن میں سے 104 اموات کی خسرے سے ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔
خسرہ جیسی علامات والے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 5 ہزار 28 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 22 ہزار 421 ہے۔
بیماری کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے وزارتِ صحت اب تک تقریباً 2 کروڑ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگا چکی ہے۔ اس کے علاوہ معمول کی ویکسینیشن جاری ہے اور ستمبر کے اواخر میں ان بچوں کے لیے خصوصی مہم بھی شروع کی گئی تھی، جو پہلے حفاظتی ٹیکے لگوانے سے محروم رہ گئے تھے۔