انڈیا: ووٹر لسٹ سے 13 کروڑ نام خارج، دہلی میں احتجاج کے باعث چھ میٹرو سٹیشن بند

13:07, 12/10/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 13:09, 12/10/2026, پیر
ویب ڈیسک
انڈیا: ووٹر لسٹ سے 13 کروڑ نام خارج، دہلی میں احتجاج کے باعث چھ میٹرو سٹیشن بند
AFP
دہلی کاکروچ جنتا پارٹی اور اپوزیشن جماعت کا احتجاج

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں حکام نے پیر کو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر چھ میٹرو سٹیشن بند کر دیے اور 20 سے زائد راستوں پر ٹریفک میں بند کرنے کی وارننگ جاری کیں۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب اپوزیشن جماعتوں نے ووٹر لسٹوں کی متنازعہ نظرثانی کے خلاف سپریم کورٹ تک مارچ کا منصوبہ بنایا۔

ان ترامیم کی وجہ سے انڈین دارالحکومت میں کئی دنوں سے بے چینی پائی جا رہی ہے۔

رواں ماہ تقریباً روزانہ ‘کاکروچ یوتھ موومنٹ‘ اور آپوزیشن جماعتیں سڑکوں پر نکل رہی ہیں اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

جس کے بارے میں ناقدین کا کہنا ہے کہ ’یہ نظرثانی وزیراعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچاتی ہے۔‘

الیکشن کمیشن کے مطابق ’گزشتہ سال شروع تصدیق کے لیے شروع کی گئ مہم میں 13 کروڑ سے زائد نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے۔ جن میں 2.8 کروڑ مرنے والے، 6.3 کروڑ نقل مکانی کرنے والے اور 3 کروڑ افراد کا سراغ نہیں لگایا جاسکتا ۔ یہ تعداد جاپان کی کل آبادی سے زیادہ ہے۔'

پولیس نے ہفتے کے آخر میں دہلی میں ہزاروں مظاہرین کو حراست میں لیا، جن میں 'کاکروچ جنتا پارٹی' (سی جے پی) کے رہنما بھی شامل ہیں۔

یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب نوجوانوں کی تحریک کے حامیوں نے احتجاجی مارچ کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں ہزاروں سیکیورٹی اہلکاروں نے روک دیا۔

مرکزی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے سپریم کورٹ تک مارچ کا اعلان کرتے ہوئے چیف جسٹس کو ایک یادداشت پیش کرنے کا کہا ہے جس میں اس عمل کو ‘ووٹ چوری’ قرار دے کر الیکشن کمیشن کے چیف کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

انڈین کانگریس کے لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا ویب سائٹ 'ایکس' پر کہا کہ سٹوڈنٹس ، تمام اپوزیشن جماعتیں، سول سوسائٹی گروپس، وہ تمام لوگ جو جمہوریت اور آئین پر یقین رکھتے ہیں، ہمارے ساتھ چلیں گے۔'

کانگریس ذرائع کے مطابق چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک ای میل کے ذریعے ملاقات کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ پہلے ہی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اسے عدالتی کارروائی کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب سی جے پی نے کہا ہے کہ 'اس کے رہنما دہلی پولیس سے مل کر پرامن احتجاج کی تاریخ کا مطالبہ کریں گے اور انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر 24 گھنٹوں کے اندر تاریخ نہ دی گئی تو وہ احتجاج کی نئی کال کا اعلان کرے گی۔'

یوتھ موومنٹ، جس نے سرکاری سکولوں کے انفراسٹرکچر سے لے کر روزگار تک کے مسائل پر احتجاج کو منظم کیا ہے، مودی کے 12 سالہ دور اقتدار میں بی جے پی کے لیے سب سے بڑے سیاسی چیلنجز میں سے ایک ہے۔

واضح رہے کہ 'یہ احتجاج اس وقت شروع ہوا جب گزشتہ ماہ ’انڈین ایکسپریس‘ اخبار نے رپورٹ کیا کہ الیکشن کمیشن کے دو عہدے داروں نے ووٹر لسٹوں میں نظرثانی، رجسٹریشن کے طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظاموں کے حوالے سے اندرونی طور پر کئی تحفظات کا اظہار کیا تھا۔'

اپوزیشن کا الزام ہے کہ 'مسلم ووٹرز اور دیگر اقلیتیں جو ہندو قوم پرست حکمران جماعت کی حمایت نہیں کرتیں، اس عمل سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوئی ہیں جس کی الیکشن کمیشن اور بی جے پی تردید کرتے ہیں۔'

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026