اسرائیلی فوج نے غزہ میں جنگی اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی: امریکی سینیٹر
12:58, 09/10/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 15:58, 09/10/2026, جمعہ
ویب ڈیسک

تصویر: انادلو
اسرائیلی بمباری سے تباہی کے بعد بچوں کی گڑیا ملبے میں پڑی ہےامریکی سینیٹر جون اوسوف نے کہا ہے کہ غزہ میں جنگ کے دوران اسرائیلی فوج نے مسلح تنازعات کے قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔ لیکن اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کے ارتکاب کا تعین بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا معاملہ ہے۔
امریکی ریاست جارجیا میں جمعرات کو سینیٹ کے مباحثے کے دوران ان سے ایک سوال کیا گیا۔ جس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی:
جان اوسوف نے کہا کہ ’نسل کشی کے تعین کے لیے یہ ثابت ہونا ضروری ہے کہ کسی حکومت کا مقصد کسی قومی یا نسلی گروہ کو تباہ کرنا ہو۔‘
انہوں نے کہا کہ ’انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ غزہ میں جنگ لڑنے والی اسرائیلی افواج نے مسلح تنازعات کے قوانین اور بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔‘
سینیٹ کی نشست کے لیے دوبارہ انتخاب لڑنے والے جان اوسوف نے اسرائیل کو امریکی ہتھیاروں کی بعض ترسیلات روکنے کے حق میں اپنے سابقہ ووٹوں کا بھی دفاع کیا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اسرائیلی عوام کی سلامتی کی فکر ہے، جن میں ان کے خاندان کے افراد بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انہیں بے گناہ فلسطینیوں کی جانوں کی بھی اتنی ہی فکر ہے اور وہ اپنے ووٹوں پر معذرت نہیں کریں گے۔‘
جان اوسوف نے یہ بیان 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن امیدوار اور رکنِ ایوانِ نمائندگان مائیک کولنز کے ساتھ اپنے پہلے ٹیلی وژن مباحثے میں دیا۔
اقوام متحدہ کے اداروں، ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے قرار دیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی۔ گزشتہ تین برس کے دوران غزہ میں 74 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک، بڑی تعداد میں زخمی اور بڑے پیمانے پر انفرا سٹکچر تباہ ہوچکا ہے۔
بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں اس معاملے کی کارروائی جاری ہے کہ ’آیا اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کی ہے۔‘
دوسری جانب بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو اور ان کے سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف غزہ میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔