سعودی عرب پر حملے کی پاکستان، بحرین اور شام سمیت دیگر ملکوں کی مذمت
11:08, 09/10/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 15:48, 09/10/2026, جمعہ
ویب ڈیسک

AFP
وزیراعظم نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ ’وہ فوری طور پر حملے بند کرے۔‘سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ریاض کےکنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے سمیت حوثی ملیشیا کے بار بار دہشت گرد حملے قابلِ مذمت ہیں۔
شہباز شریف نے سعودی مسلح افواج اور ان کے اتحادی فوجی اتحاد کی جانب سے میزائلوں کو روکنے اور مملکت کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔
اس کے علاوہ بحرین، اردن اور ملک شام کی جانب سے بھی سعودی عرب کے ایئر پورٹ حملے کی مذمت کی گئی ہے۔بحرین نے ایئرپورٹس اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور مسافروں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کو مجرمانہ اقدام اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
اردن نے حملوں کو سعودی خودمختاری اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مملکت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اس کی جانب سے سیکیورٹی کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی حمایت کی۔
جبکہ جی سی سی کے سیکریٹری جنرل نے ابہا اور کنگ خالد ایئرپورٹس کو نشانہ بنانے والے حملوں کو سنگین اشتعال انگیزی اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔
مسلم ورلڈ لیگ نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں کی مذمت کی، جبکہ عرب وزرائے داخلہ کی جنرل سیکریٹریٹ نے شہریوں اور شہری املاک کو بار بار نشانہ بنانے کی کارروائیوں کو قابلِ مذمت قرار دیا۔
جمعرات کو سعودی دارالحکومت ریاض میں حوثی ملیشیا کے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد اس کے ملبے سے ایک کنڈر گارٹن اور طبی مرکز کو نقصان پہنچا۔ اسی روز خمیس مشیط کی جانب داغا گیا ایک اور بیلسٹک میزائل بھی تباہ کردیا گیا۔
سعودی سول ایوی ایشن کے حکام کے مطابق رواں ہفتے کے آغاز میں ابہا اور کنگ انٹرنیشنل ایئرپورٹس پر حملوں کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 36 زخمی ہوئے۔ عرب اور علاقائی تنظیموں نےشہریوں اور شہری تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت جارہی رکھیں گے
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے اور سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے حالیہ فیصلوں کے مطابق پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان سعودی عرب کے اپنے عوام کے دفاع اور شہروں سمیت اہم تنصیبات کے تحفظ کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
وزیراعظم نے حوثی ملیشیا سے مطالبہ کیا کہ ’وہ فوری طور پر حملے بند کرے۔‘