امریکا میں ملازمت کے خواہش مند غیر ملکی طلبہ کے لیے 70 ہزار ڈالر فیس کا فیصلہ کامیاب ہوگا؟

12:48, 08/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 12:49, 08/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک
 امریکا میں ملازمت کے خواہش مند غیر ملکی طلبہ کے لیے 70 ہزار ڈالر فیس کا فیصلہ کامیاب ہوگا؟
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے تجویز دی ہے کہ ’امریکا میں کام کرنے کے خواہش مند بین الاقوامی طلبہ کو کم از کم 70 ہزار ڈالر ٹریننگ فیس ادا کرنا ہوگی۔‘

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی (ڈی ایچ ایس) نے تجویز دی ہے کہ ’امریکا میں کام کرنے کے خواہش مند بین الاقوامی طلبہ کو کم از کم 70 ہزار ڈالر ٹریننگ فیس ادا کرنا ہوگی۔‘

بدھ کو آن لائن جاری کیے گئے حکومتی نوٹس کے مطابق یہ تجویز ٹرمپ انتظامیہ کی غیر ملکی ویزا رکھنے والوں کے خلاف وسیع تر اقدامات کا حصہ ہے۔

تجویز کے تحت ایف ون ویزا رکھنے والے غیر تارک وطن طلبہ کو ملازمت کے دوران تربیت، جسے ’آپشنل پریکٹیکل ٹریننگ‘ (او پی ٹی) کہا جاتا ہے۔ اس کے لیے کسی منظور شدہ ادارے کو 70 ہزار ڈالر ادا کرنا ہوں گے جبکہ اضافی ملازمت کی تربیت کے لیے مزید 30 ہزار ڈالر فیس ہوگی۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا کہ نئی فیس کا مقصد ’دھوکا دہی کا مقابلہ کرنا، امیگریشن نظام کی سالمیت مضبوط کرنا اور امریکی کارکنوں کا تحفظ‘ ہے۔

موجودہ ’او پی ٹی‘ نظام کے تحت غیر ملکی طلبہ دورانِ تعلیم ہفتے میں 20 گھنٹے تک کام کی تربیت حاصل کر سکتے ہیں۔ جبکہ گریجویشن کے بعد بھی محدود مدت تک کام کی اجازت ہوتی ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کی ڈگریاں رکھنے والے طلبہ کے لیے اضافی مدت کی اجازت بھی موجود ہے۔ اس پروگرام میں شامل طلبہ اس وقت تقریباً 500 ڈالر فیس ادا کرتے ہیں۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا کہ نئی فیس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مقرر کی جا رہی ہے کہ آجر، طلبہ اور تعلیمی ادارے ’ایف ون ویزا‘ کے تحت داخلے سے مطابقت رکھنے والی سرگرمیوں میں مناسب طور پر شریک ہوں۔

یہ تربیتی پروگرام اکثر ان طلبہ کے لیے امریکی کمپنیوں میں ملازمت کی جانب ایک راستہ بنتے ہیں جو بعد میں ایچ ون بی ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایچ ون بی پروگرام کو بھی زیادہ فیس کے ذریعے ہدف بنایا ہے۔

ایچ ون بی پروگرام کئی دہائیوں سے دنیا بھر بالخصوص انڈیا اور چین، سے تعلق رکھنے والے نوجوان انجینئرز اور سائنس دانوں کو امریکی جامعات میں تعلیم کے بعد اعلیٰ تنخواہ والی ملازمتیں حاصل کرنے اور مستقل رہائش کی جانب بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ امریکا کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں ہنرمند ملازمین کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کارکنوں پر انحصار کرتی ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ غیر ملکی طلبہ کے لیے امریکا میں قیام کا راستہ آسان بنائیں گے اور تجویز دی تھی کہ گریجویشن کے بعد انہیں خودکار طور پر گرین کارڈ دیا جائے۔

ڈی ایچ ایس کی دیگر ایسی تجاویز کی طرح اس مجوزہ تبدیلی کو بھی فوری قانونی چیلنجز کا سامنا متوقع ہے۔

غیر ملکی ریاضی کے ماہرین کی توجہ حاصل کرنے والے ادارے ٹیلنٹ موبیلٹی فنڈ کے ڈائریکٹر ڈگ رینڈ نے بدھ کو لنکڈ اِن پر لکھا کہ یہ مجوزہ ضابطہ عدالتوں میں کامیاب نہیں ہوگا، جیسا کہ ایک لاکھ ڈالر کی ایچ ون بی فیس اور امیگریشن پر عائد دیگر پابندیوں کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا ہے۔

مجوزہ ضابطے پر حتمی منظوری سے قبل عوام سے 30 دن تک رائے طلب کی جائے گی۔

محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے کہا کہ ’حتمی منظوری کے بعد اس پر نفاذ سے قبل 60 دن کا وقفہ دیا جائے گا تاکہ تعلیمی اداروں، طلبہ اور آجروں کو تیاری کا وقت مل سکے۔‘

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026