یو این چیف کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، علاقائی امن و سلامتی پر تبادلہ خیال
10:39, 08/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 10:40, 08/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

تصویر: پی آئی ڈی
موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’اس کے اثرات میں شدت آرہی ہے اور ترقی پذیر ممالک کو اس کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔‘
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بدھ کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں علاقائی امن و سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایک بیان کے مطابق گوتریس نے سلامتی کونسل کے منتخب رکن کی حیثیت سے پاکستان کے اہم کردار کو سراہا۔ ان میں تنازعات کے پرامن حل کے لیے کوششیں، بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان تنازع میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں، اقوام متحدہ میں اصلاحات، امن مشنز، علاقائی امن سمیت کشمیری اور فلسطینی عوام کے حقوق اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی معاونت کی ضرورت پر بھی بات ہوئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے پرامن افغانستان کی اہمیت اور افغان سرزمین سے دہشت گرد گروہوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انتونیو گوتریس نے اسلام آباد میں فارن سروس اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی، تنازعات، عدم مساوات اور مصنوعی ذہانت سمیت انسانیت کو درپیش مشترکہ چیلنجز پر بھی روشنی ڈالی۔
غزہ کے حوالے سے یو این چیف نے امن منصوبے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کیا اور کہا کہ دو ریاستی حل کو ’ختم نہیں ہونے دیا جا سکتا‘۔
انہوں نے بڑھتے ہوئے قرضوں، ترقی کے لیے ناکافی مالی معاونت اور پائیدار ترقی کے اہداف پر پیش رفت رکنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور بین الاقوامی مالیاتی نظام میں اصلاحات کے لیے حمایت کا اعادہ کیا۔
موسمیاتی تبدیلی اور ترقی پذیر ممالک
موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ اس کے اثرات میں شدت آرہی ہے اور ترقی پذیر ممالک کو اس کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔
انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ’خطرات میں اضافے کا باعث‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نقل مکانی میں اضافے، وسائل پر دباؤ اور غذائی تحفظ کو نقصان پہنچانے سبب بن رہی ہے۔
انتونیو گوتریس نے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی کہا کہ ’اس کی حکمرانی میں پوری انسانیت کے مفادات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے، اس کے فوائد وسیع پیمانے پر تقسیم ہوں اور اس کے خطرات سے اجتماعی طور پر نمٹا جائے۔‘
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے چار ترجیحات کو اجاگر کیا۔ ان میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری، بین الاقوامی تعلقات میں سفارت کاری کو مرکزی حیثیت دینا، ابھرتی ٹیکنالوجیز کے سکیورٹی خدشات سے نمٹنا اور اقوام متحدہ کی ساکھ اور مؤثر کردار کو مضبوط بنانا شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی خودمختار برابری، علاقائی سالمیت، عدم مداخلت، طاقت کے استعمال یا دھمکی کی ممانعت اور حق خود ارادیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق معاہدوں کی ذمہ داریوں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ فلسطین کے مسئلے اور جموں و کشمیر تنازع کا منصفانہ اور پرامن حل اس عزم کے بنیادی امتحانات میں شامل ہے۔