حماس کے 7 اکتوبر کو کیے گئے حملے کی تیسری برسی پر اسرائیل میں تقریبات

10:46, 07/10/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 15:05, 07/10/2026, بدھ
ویب ڈیسک
حماس کے 7 اکتوبر کو کیے گئے حملے کی تیسری برسی پر اسرائیل میں تقریبات
تصویر: اے پی
حماس کے حملے کو تین سال مکمل ہونے پر اسرائیل میں تقریبات

اسرائیلی شہری سات اکتوبر 2023 کو ہونے والے حماس کے حملے کی تیسری برسی منا رہے ہیں، جس کے بعد اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی۔

حملے اور اس سے ہونے والی جنگ نے غزہ ہو ملبے کا ڈھیر بنا دیا، جبکہ جنگ بندی کے باوجود صورتحال بدستور سنگین ہے۔

سات اکتوبر2023 کو حماس میں تقریباً 1200 افراد ہلاک اور 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا۔ یہ حملہ اسرائیل کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا گیا تھا۔

اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر عمارتیں اور انفراسٹرکچر تباہ ہوا ہے۔

واقعے کو تین سال مکمل ہونے کے موقع پر اسرائیلی شہری غزہ کی سرحد کے قریب ’نووا میوزک فیسٹیول‘ کے مقام پر دعائیہ تقریب منعقد کریں گے۔ جہاں حملے کے دوران 348 اسرائیلی نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔

20 روز بعد ہونے والے اسرائیلی انتخابات:

سات اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملے کی برسی کے تین سال ایسے موقع پر ہو رہے ہیں جب اسرائیل میں 20 روز بعد عام انتخابات ہیں۔ یہ انتخابات وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو کے طویل سیاسی دورِ اقتدار کے حوالے سے اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

نیتن یاہو نے سات اکتوبر کے سکیورٹی بحران کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے اور آزادانہ تحقیقات کے مطالبات بھی مسترد کیے ہیں۔ اس معاملے میں متاثرہ خاندانوں سمیت اسرائیل میں کئی حلقوں میں ناراضی پائی جاتی ہے۔

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ایک سروے کے مطابق 68 فیصد یہودی اسرائیلیوں نےکہا کہ سات اکتوبر کے واقعات ان کے ووٹ دینے کے فیصلے میں بہت یا کافی اہم کردار ادا کریں گے۔

انتخابی جائزوں کےمطابق اگر آج انتخابات ہوں تو نیتن یاہو یا ان کے اہم حریفوں میں سے کوئی بھی حکومت بنانے کے لیے پارلیمان میں مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔

امریکی حمایت یافتہ جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی حملے جاری

10 اکتوبر2025 کو امریکا کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی نے بڑے پیمانے کی لڑائی تو روک دی، تاہم غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروپوں کو غیر مسلح کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔

جنگ بندی کے وقت اسرائیل غزہ کےتقریباً 53 فیصد علاقے پر قابض تھا،جو بعد میں بڑھ کر تقریباً دو تہائی تک پہنچ گیا۔ باقی ایک تہائی علاقے میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی زیادہ تر عارضی خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں رہ رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزد کردہ ’بورڈ آف پیس‘ نے غزہ کی تعمیرنو کے لیے مختلف منصوبے پیش کیے ہیں، تاہم ان منصوبوں کو اسرائیل اور حماس دونوں کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہوسکی۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات میں سب سے بڑا اختلاف حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا پر ہے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ وہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک فوج واپس نہیں بلائے گا۔ جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے مرحلہ وار عمل پر اتفاق کیا ہے لیکن اسرائیلی حملے جاری رہنے تک وہ غیر مسلح نہیں ہوگی۔

غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد اب تک 1,400 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کے اعداد و شمار میں شہریوں اور جنگجوؤں کے درمیان تفریق نہیں کی جاتی۔

اسرائیلی فوج کے مطابق اسی عرصے میں 5 اسرائیلی فوجی مسلح گروہوں کے ہاتھوں یا جنگی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔

یاد رہے 7 اکتوبر حملے کے تین سال بعد بھی اسرائیل اور حماس کے درمیان بنیادی اختلافات برقرار ہیں، جبکہ غزہ میں بڑے پیمانے پر تباہی، بے گھر ہونے اور انسانی بحران کا سلسلہ جاری ہے۔


پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026