جنگ کے ختم کے لیے ایران اپنی جوہری افزودگی میں کمی کرے: جے ڈی وینس

09:39, 07/10/2026, بدھا: اپ ڈیٹ: 09:40, 07/10/2026, بدھ
ویب ڈیسک
 جنگ کے ختم کے لیے ایران اپنی جوہری افزودگی میں کمی کرے: جے ڈی وینس
ایران میں فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر امریکا غیر یقینی کا شکار ہے: جے ڈی وینس

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ایران کو امریکا کے مطالبات پورے کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان سات ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت میں کمی کرنا ہوگی۔‘

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس نے کہا کہ ’کسی بھی معاہدے کے لیے ایران کو مستقبل میں جوہری افزودگی میں کمی کی یقین دہانی کرانے کے بجائے اپنی افزودگی کی صلاحیت میں حقیقی کمی کرنا ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اگر ایران جوہری ہتھیار نہیں بنانا چاہتا تو اسے 60 فیصد تک افزودہ ایندھن کی ضرورت کیوں ہے۔ ان کے مطابق جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم کا اظہار کرنے کے لیے ایران کو یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت میں کمی کے حوالے سے معنی خیز اقدام کرنا ہوگا۔

ایران اور امریکا نے حالیہ ہفتوں کے دوران جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے تجاویز کا تبادلہ کیا ہے۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی حالیہ پیشکش مسترد کردی ہے اور خبردار کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد فوجی کارروائیاں مزید بڑھ سکتی ہیں۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ ’امریکا اب بھی معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے ایران کی جانب سے جوہری پروگرام پر کام نہ کرنے کے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔

انہوں نے کہا، ’ہم اقدامات کے بدلے صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں کریں گے۔‘


ایران میں فیصلہ سازی کے طریقہ کار پر امریکا غیر یقینی کا شکار ہے: جے ڈی وینس


جے ڈی وینس نے کہا کہ ’مذاکرات کو پیچیدہ بنانے والا ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ امریکہ کو یہ واضح نہیں کہ ایران میں فیصلے کون کر رہاہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ امریکا ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، تاہم ایران کے پاور سٹرکچر میں ان دونوں کے اختیار کی سطح واضح نہیں۔

امریکی نائب صدر کے مطابق جنگ کے آغاز میں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد ایران میں فیصلہ سازی کے طریقہ کار کے حوالے سے صورتحال مزید غیر واضح ہے۔

انہوں نے کہا ’ہم نے ایک بات یہ محسوس کی ہے کہ یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ ان کا ملک فیصلے کیسے کرتا ہے۔‘

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی منگل کو کہا کہ ان کا ’سب سے بڑا مسئلہ‘ یہ ہے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ ایران چلا کون رہا ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اتوار کو کہا کہ ’امریکی حکام اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے ایرانی ہم منصب کون ہیں اور ایران میں فیصلہ سازی کا نظام کیسے کام کرتا ہے۔‘

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026