اسرائیل ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی میں امریکی حمایت بھی متوقع
17:00, 05/10/2026, پیر
ویب ڈیسک

Getty images
فائل فوٹواسرائیلی میڈیا نے پیر کو رپورٹ کیا ہے کہ ’اسرائیل ایران کے خلاف ممکنہ نئی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے، جس میں امریکہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔‘
اسرائیلی اخبار ’اسرائیل ہیوم‘ نے کہا ہے کہ 'اسرائیلی فوج امریکی فوج کے ساتھ قریبی انٹیلی جنس اور آپریشنل تعاون برقرار رکھتے ہوئے ایران کے خلاف ممکنہ حملے کی تیاری کر رہی ہے۔'
رپورٹ میں کہا گیا کہ 'اسرائیل کسی ایرانی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی یا پیشگی حملے کے آپشنز پر بھی غور کر رہا ہے، اگرچہ اس میں نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل اسرائیل یا امریکہ کی جانب سے حملے کے امکان کو نسبتاً کم قرار دیا گیا ہے۔'
اخبار نے مزید لکھا کہ 'اسرائیل ایران کے نیوکلئیر پروگرام کو بدستور سنگین خطرے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔'
دوسری جانب اسرائیلی ویب سائٹ ’والا‘ نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ 'مشرقِ وسطیٰ میں ممکنہ کشیدگی بڑھنے کے پیشِ نظر امریکا آنے والے ہفتوں میں اسرائیل میں مزید فوجی دستے اور جنگی طیارے تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔'
رپورٹ میں سیکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 'اس وقت اسرائیل بھر میں تقریباً 3,000 امریکی فوجی موجود ہیں، جن میں فضائی دفاعی نظام چلانے والے اہلکار، پائلٹس اور معاونت کا عملہ شامل ہے۔'
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 'اسرائیلی فوج ایران کے ساتھ ممکنہ نئے تصادم کے لیے تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہے اور ساتھ ہی امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے۔'
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا تھا کہ ’ایران ’منصفانہ حل‘ تک پہنچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے کو تیار ہے۔‘