فرانس میں تعلیمی انتظامات اور فنڈنگ مکمل نہ ہونے پر پرتشدد احتجاج، 500 سکول بند
11:01, 05/10/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 11:02, 05/10/2026, پیر
ویب ڈیسک

فرانس میں حالیہ دنوں پولیس اور طلبہ مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیر کو 500 سکول جزوی یا مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فرانس میں حالیہ دنوں پولیس اور طلبہ مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے بعد پیر کو 500 سکول جزوی یا مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ فرانسیسی وزیر تعلیم ایڈوارڈ گیفرے نے اتوار کو بتایا کہ سکیورٹی کی صورتحال کے باعث متعدد سکولوں میں تدریسی عمل معطل کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم کے مطابق تقریباً 400 سے 500 ہائی سکولوں میں سکیورٹی کے مطلوبہ انتظامات مکمل نہ ہونے کی وجہ سے سکولوں کو بند کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے 24 سکولوں کو ’نذرِ آتش یا لوٹ مار‘ کا نشانہ بنایا جاچکا ہے۔ گزشتہ ہفتے شروع ہونے والے احتجاج میں ہزاروں طلبہ شریک ہیں۔ مظاہرے پیرس سے نکل کر مون پلیے، نانت اور مارسیلے سمیت دیگر شہروں تک پھیل گئے ہیں۔
ہائی سکول کے طلبہ اور دیگر مظاہرین اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ اور خستہ حال عمارتوں سمیت تعلیمی نظام سے متعلق مسائل پر احتجاج کر رہے ہیں۔
فرانسیسی وزیر انصاف جیرالڈ درماناں نے جمعے کو بتایا تھا کہ ’ملک کے 3,700 سکولوں میں سے 735 کسی نہ کسی طرح پرتشدد احتجاج سے متاثر ہوئے ہیں۔‘
فرانسیسی وزیر تعلیم نے دعویٰ کیا کہ ’انتہائی بائیں بازو‘ سے تعلق رکھنے والے کارکن طلبہ کی تحریک میں شامل ہوگئے ہیں، اسے طلبہ سے ہائی جیک کیا اور انتہائی تشدد کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے تعلیمی عملے اور طلبہ دونوں کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔ ایڈوارڈ گیفرے کے مطابق احتجاج کے دوران تعلیم کے شعبے کے 78 ملازمین زخمی ہوئے ہیں، جو ان کے بقول ’اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا‘۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز کے مطابق جمعے کو 1,747 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق احتجاجی تحریک شروع ہونے کے بعد مجموعی طور پر 5,000 سے زائد افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق احتجاج کے منتظمین نے حکومت پر ’ٹھوس اقدامات‘ نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے منگل کو بھی مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
فرانسیسی وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے اتوار کو کہا کہ حکومت ہائی سکول کے طلبہ اور تعلیمی عملے کو درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے۔