اسلام آباد معاہدے کی سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: ایران
10:46, 05/10/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 11:36, 05/10/2026, پیر
ویب ڈیسک

AA
آبنائے ہرمز میں سمندری ٹریفک میں خلل کے دوران ایران کے جزائر قشم اور لارک کے درمیان لنگر انداز تجارتی جہاز دیکھے گئے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ’آبنائے ہرمز اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا کے ساتھ جون میں اسلام آباد میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی سات شرائط پوری نہیں ہوتیں۔‘ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ’ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کا موقف واضع اور حتمی ہے۔‘
ایران نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسبملی میں تجویز پیش کی جس کے تحت شرائط پوری ہونے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر دوبارہ کھولا جاسکتا ہے۔ امریکا نے گزشتہ ہفتے قطر کے ذریعے اس تجویز کا جواب دیا۔
باقر قالیباف نے کہا کہ ’واشنگٹن کو سمجھنا ہوگا کہ سفارتی عمل کو طول دینے اور یکطرفہ مطالبات مسلط کرنے کا وقت ختم ہوچکا ہے۔‘
ایران کی جوہری مذاکرات سے متعلق وضاحت:
ایران کی جوہری مذاکرات سے متعلق وضاحت:
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’تہران نے ثالثوں کے ذریعے امریکی جواب پر اپنا مجموعی موقف پہنچا دیا ہے۔ تاہم کچھ اضافی نکات بھی امریکہ تک پہنچانا باقی ہیں۔‘ ان کے مطابق امریکی تجاویز ماضی کے موقف، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق نکات سے ملتی جلتی ہیں۔
بقائی نے اس تاثر کی بھی تردید کی کہ ’ایران نے امریکی پابندیوں میں نرمی کے بدلے اپنی جوہری تنصیبات کے معائنے کی پیشکش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر ایران کی توجہ آبنائے ہرمز اور اس کی سکیورٹی کی بحالی پر ہے اور تہران نے واشنگٹن کے ساتھ جوہری مذاکرات شروع نہیں کیے۔
ایران کا امریکا کو انتباہ:
ایران کا امریکا کو انتباہ:
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران میں غیر ملکی سفیروں اور سفارت کاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ایران کو امید ہے کہ امریکا سفارت کاری کا راستہ اختیار کرے گا۔ تاہم اگر واشنگٹن نے دوبارہ فوجی کارروائی کا انتخاب کیا تو ایران جواب دینے کےلیے تیار ہے۔‘
عراقچی نے کہا کہ ’امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کی طرف بڑھا تو ایران پہلے سے زیادہ تیار ہے اور اپنے دفاع کے لیے ضروری ہر اقدام کرے گا۔‘
ادھر ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے کہا کہ ’ایران اپنے میزائلوں کی رینج میں اضافہ کرے گا۔‘ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کھولنے اور تنازع ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔