زمینی حملہ کیا تو تمام امریکی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے: ایران کی وارننگ
10:25, 05/10/2026, پیرا: اپ ڈیٹ: 13:58, 05/10/2026, پیر
ویب ڈیسک

تصویر: ایرانی خبر ایجنسی مہر
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے سینئر کمانڈر اور کمانڈر ان چیف کے مشاورتی گروپ کے سربراہ علی فدوی ۔ فائل فوٹو
ایرانی پاسدارانِ انقلاب فورس (آئی آر جی سی) کے سینئر کمانڈر نے خبردار کیا ہے کہ ’اگر امریکہ نے ایران پر زمینی حملہ کیا تو ایران تمام امریکی فوجی اڈوں اور بحری جہازوں کو نشانہ بنائے گا۔‘
آئی آر جی سی کے کمانڈر ان چیف کے مشاورتی گروپ کے سربراہ علی فدوی نے اتوار کو ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر امریکی زمینی حملہ کرتے ہیں تو ہم امریکیوں سے منسلک ہر مقام، امریکی اڈوں اور ہر بحری جہازوں کو نشانہ بنائیں گے۔‘
علی فدوی نے کہا کہ ’امریکا صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے، اور ان کے جنگی جہازوں اور فوجی اڈوں پر میزائل حملے ہی اسے سمجھا سکتے ہیں۔‘
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’ایران کی فوجی سازوسامان کی پیداوار اس کے استعمال کی شرح سے زیادہ ہے۔‘
’گزشتہ دو جنگوں کے مقابلے میں ملک کی موجودہ صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔‘
علی فدوی نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ ’ایران اور عمان نے اس سٹریٹجک آبی راستے کے لیے قوانین تیار کر لیے ہیں اور ان پر عمل درآمد جاری ہے۔‘
انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ ’اگر امریکہ نے اپنے بحری جہازوں کو خطے میں تعینات کیا تو وہ ایرانی حملوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکی صرف فضائی کشیدگی پیدا کر سکتے ہیں اور یقیناً کشیدگی میں اضافہ خود امریکیوں کے ہی نقصان کا باعث بنے گا۔‘
سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ’ایران نے کسی بھی مسلم ملک پر ہرگز حملہ نہیں کیا، بلکہ ایران نے ان ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔‘
ان کے یہ ریمارکس خطے میں امریکی عسکری سرگرمیوں میں اضافے اور امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ امریکا نے مشرق وسطیٰ کی جانب اضافی بحری اور فوجی ساز و سامان بھیجا ہے، جن میں کیریئر اور ’ایمفیبیئس فورسز‘ شامل ہیں، جب کہ علاقے میں امریکی اڈوں پر فضائی اور میزائل دفاع کو بھی مضبوط کیا گیا ہے۔