پاکستان سمیت مسلم ممالک کی مدینہ میں ’طیبہ پاور سٹیشن‘ پر حملے کی شدید مذمت

11:05, 02/10/2026, جمعہا: اپ ڈیٹ: 12:43, 02/10/2026, جمعہ
ویب ڈیسک
پاکستان سمیت مسلم ممالک کی مدینہ میں ’طیبہ پاور سٹیشن‘ پر حملے کی شدید مذمت
APP
فائل فوٹو

پاکستان نے 29 ستمبر کو مدینہ منورہ میں ‘طیبہ پاور سٹیشن ’ پر حوثی ملیشیا کے مبینہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’سنگین اشتعال انگیزی‘ اور علاقائی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’یہ حملہ مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر کیا گیاہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ حرمین شریفین کے تقدس اور عبادت گزاروں و زائرین کی حفاظت کا ہر حال میں احترام کیا جانا چاہیے۔‘

پاکستان نے ان حملوں کو علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے ان ’غیر ذمہ دارانہ کارروائیوں‘کے فوری اور لاپرواہ اقدام کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

دفتر خارجہ نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ، اپنے عوام کی حفاظت اور زائرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کی کوششوں میں سعودی عرب کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے۔‘

دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے حصول کے لیے کوششیں کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد نے اس گروپ پر مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے ایک ایسے اسٹیشن کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے جو مسجدِ نبوی کو بجلی فراہم کرتا تھا۔

سعودی اتحاد کا موقف

سعودی قیادت والے اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق 29 ستمبر کو صبح 5:11 بجے ایک ڈرون نے طیبہ سٹیشن کو نشانہ بنایا، جس سے ایک ٹرانسفارمر متاثر ہوا۔ اتحاد کا دعویٰ ہے کہ تحقیقات سے حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے، تاہم حوثیوں نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

سعودی عرب نے ستمبر کے اوائل میں بتایا تھا کہ اس نے مکہ کے جنوب میں حوثی ڈرون کو شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ہی روک کر تباہ کر دیا تھا۔ اتحاد نے اس واقعے کو 2017 کے بعد سے مکہ کو نشانہ بنانے کی حوثیوں کی دوسری کوشش قرار دیا، جبکہ حوثیوں نے مکہ یا کسی بھی دوسرے اسلامی مقدس مقام کو نشانہ بنانے کی تردید کی۔

واضح رہے کہ پاکستان نے ستمبر 2025 میں سعودی عرب کے ساتھ’ سٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا۔ بعد ازاں 7 اگست کو ترکیہ سمیت ’مکہ ڈیفنس الائنس‘ بھی قائم ہوا۔

عالمی رد عمل

ترکیہ، قطر، عرب لیگ اور جامعہ الازہر نے بھی حملے کو اسلامی مقدسات کے تقدس پر حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

پیج بریک
فٹر ٹائٹل

فٹر ڈسکرپشن

سوشل میڈیا ٹائٹل
موبائل ایپ ٹائٹل

موبائل ایپ ڈسکرپشن

کیٹیگریز
کمپنی میڈیا

Maltepe Mah. Fetih Cad. No:6 34010 Zeytinburnu/İstanbul, Türkiyeiletisim@yenisafak.com+90 212 467 6515

کمپنی میڈیا سائٹس
قانونی انتباہ

قانونی انتباہ کی تفصیلات

© Net Medya، تمام رائٹس ہمارے پاس ہیں۔ 2026