فرانس اور جرمنی ڈیزل کے ذخائر جاری کریں، ورنہ امریکی پابندیوں کے لیے تیارہو جائیں: امریکہ
14:07, 01/10/2026, جمعراتا: اپ ڈیٹ: 16:59, 01/10/2026, جمعرات
ویب ڈیسک

AFP
امریکی جنھڈاواشنگٹن اور یورپی ممالک کے درمیان ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے معاملے پر دباؤ میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے فرانس اور جرمنی سے کہا کہ وہ ہنگامی ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں جاری کریں تاکہ عالمی سطع پر ایندھن کی قیمتوں میں کمی لانے میں مدد مل سکے، بصورتِ دیگر امریکا یورپ کے لیے ڈیزل کی برآمد پر پابندی عائد کرنے پر غور کر سکتا ہے۔
انگلینڈ کے خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس معاملے سے باخبر تین ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امریکا میں ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کے لیے ڈیزل برآمدات محدود کرنے کے ممکنہ اقدام پر غور کر رہی ہے۔
امریکی حکام کو شکایت ہے کہ فرانس اور جرمنی نے ہنگامی تیل اور پٹرولیم ذخائر جاری کرنے سے متعلق کیے گئے وعدوں پر مکمل طور پر عمل نہیں کیا۔
ایک امریکی عہدیدار نے روئٹرز کو بتایا کہ یورپ کے مفاد میں ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ مل کر ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی رسد بڑھانے اور صارفین کے اخراجات کم کرنے کے لیے مختلف اقدامات کرے۔
ایک یورپی ذرائع کے مطابق امریکا نے یورپی یونین سے آگے چھ ماہ کے دوران 12 کڑور بیرل ڈیزل مارکیٹ میں جاری کرنے کو کہا ہے۔ یورپی ممالک کے پاس مجموعی طور پر تقریباً 109 ملین بیرل ہنگامی خام تیل اور ایندھن کے ذخائر موجود ہیں۔
عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ ایران جنگ اور روسی ریفائنریوں پر یوکرینی حملوں سے پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹیں بھی بتائی جا رہی ہیں۔
امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ یورپ جلد ڈیزل کی نئی رسد کے حوالے سے اعلانات کرے گا۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ سے ڈیزل کی کچھ برآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ اگرچہ انہیں بحال کیا جا رہا ہے، جبکہ چین سے بھی ڈیزل کی برآمدات میں کمی آئی ہے۔
جرمنی کی وزارتِ اقتصادیات نے فوری طور پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جبکہ فرانس کی وزارتِ توانائی نے تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔
فرانسیسی ایوانِ صدر کے ایک عہدیدار نے کہا کہ صدر ایمانوئل میکرون اور ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ملاقات کے دوران اس معاملے پر بات نہیں کی۔ تاہم ان کے مطابق میکرون نے جی سیون ممالک کے رہنماؤں کی ویڈیو کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس میں بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں، ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کی عالمی دستیابی اور بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے تعاون سے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کے معاملے پر غور کیا جائے گا۔
روس کے یوکرین پر حملے کے بعد روسی ایندھن کی درآمدات پر پابندی اور ایران سے متعلق امریکا اور اسرائیل کی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ سے سپلائی میں خلل کے بعد یورپ امریکی ایندھن پر پہلے سے زیادہ انحصار کرنے لگا ہے۔